نظریہ پاکستان اگلی نسل کو منتقل کرنا چاہتے ہیں‘ انشاء اللہ بنگلہ دیش دوبارہ پاکستان بن جائے گا : مجید نظامی

لاہور (خبر نگار خصوصی ) تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا ہے کہ اساتذہ کرام نئی نسلوں کے ذہنوں میں نظریۂ پاکستان موجزن کرنے اور انہیں بھارتی ثقافت کے مضمرات سے آگاہ کرنے کے لیے اپنا اہم ترین کردار ادا کریں۔ وہ ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں اساتذہ کرام کی آٹھویں نظریاتی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔ ورکشاپ کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کے اشتراک سے کیا تھا۔ جس سے ممتاز دانشور پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں احسان اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیف کوآرڈینیٹر میاں عزیز الحق قریشی نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر علامہ محمد مظفر مرزا نے سرانجام دیئے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز حسب روایت تلاوت قرآن مجید اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت منزہ شاہد نے حاصل کی جبکہ ذکیہ اکبر نے بارگاہ نبویؐ میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ مجید نظامی نے کہا کہ دو قومی نظریۂ پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے، اگر یہ نظریہ نہ ہوتا تو پاکستان کا وجود عمل میں آنا ناممکن تھا اور اگریہ بن بھی جاتا تو برقرار نہ رہتا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی حماقتوں سے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا لیکن مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے باوجود وہ بھارت کا لے پالک نہیں اور بنگلہ دیش کی بھی بھارت کے لیے وہی حیثیت ہے جو پاکستان کی ہے۔ مجید نظامی نے مزید کہا کہ میں اللہ تعالیٰ پر یقین سے کہتا ہوں کہ بنگلہ دیش دوبارہ پاکستان بن جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ بنگالیوں کو یہ شکوہ تھا کہ خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ عوام کی جدوجہد کے بعد جنرل ایوب چلے گئے اور جنرل یحییٰ نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس پر بنگالیوں نے سمجھا کہ چونکہ فوج میں کوئی بنگالی جنرل نہیں اس لیے ہمارے اقتدار کی باری کبھی نہیں آئے گی لہٰذا اُنہوں نے علیحدگی اختیار کر لی۔ مجید نظامی نے کہا کہ ہم نظریۂ پاکستان اگلی نسل کو منتقل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ بھارتی فلمیں اپنے گھروں میں دیکھ دیکھ کر ہمارے بچے بھارتی ثقافت سے متاثر ہورہے ہیں۔ اس طرح ہمارے کچھ اخبارات بھی بھارتی فلموں کی تعریف کرتے ہیں۔ چنانچہ بچوں کو بھارتی ثقافت سے دور کرنے کے لیے اساتذہ کرام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی مدد کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں نے ایک ہزار برس تک ہندوئوں پر حکومت کی جسے ہندو کبھی بھلا نہیں سکا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اخبار میں ایک تصویر چھاپی ہے جس میں ایک بھارتی خاتون جو برقعہ پوش ہے نے اپنے بچے کی شکل و صورت کرشن مہاراج کی طرح بنا رکھی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کے مسلمان بھی ہندوانہ تہذیب و ثقافت سے متاثر ہورہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جسونت سنگھ ایک قوم پرست لیڈر تھے لیکن بھارت میں قوم پرستی کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم مسلمان اور ہندو کو ایک قوم سمجھ لیں تو پھر پاکستان کا وجود بے معانی رہ جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جسونت سنگھ کی کتاب ہزاروں کی تعداد میں نذر آتش کی جارہی ہے اور ان کی اپنی جماعت پی جے پی انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے یہ ورکشاپ اس لئے شروع کی ہے کہ ہندو اور مسلمان دو قومیں تھے اور ہم بت شکن ہیں اور ہندو بت پرست ہیں اور یہی بنیادی فرق ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اساتذہ کرام نئی نسلوں کو بھی سمجھائیں کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں ہم پاکستان کی حفاظت صرف اس صورت میں کرسکتے ہیں کہ جب ہم نظریۂ پاکستان پر عمل کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ آزادی دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور غلامی سب سے بڑی لعنت ہے۔ میں آزاد پیدا نہیں ہوا تھا۔ ہم نے انگریزوں اور ہندوئوں کی غلامی کا زمانہ دیکھا ہے لیکن آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ آزاد پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے کہا کہ خواتین نے تحریک پاکستان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پنجاب سیکرٹریٹ پر ایک نوجوان لڑکی فاطمہ صغریٰ نے مسلم لیگ کا پرچم لہرایا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ماردِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ اگر خدانخواستہ اپنے بھائی قائداعظمؒ کا ساتھ نہ دیتیں تو قائداعظمؒ کے لیے پاکستان کا حصول آسان نہ ہوتا لیکن مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے ہر قدم پر قائداعظمؒ کی بھرپور مدد کی اور یوں قائداعظمؒ مسلمانانِ برصغیر کے لیے سب سے بڑی اسلامی مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت ہمیں نیست و نابود کرنے کے لیے پوری تیاری کر رہے ہیں لیکن اگر ہماری بہادر فوج خود کو جگائے رکھے اور ہمارے حکمران یہ نہ کہیں کہ بھارت سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں تو یہ اتحاد ثلاثہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہمیں بھارت سے خطرہ نہیں تو پھر ہمارے حکمران یہ بتائیں کہ ہمیں کس سے خطرہ ہے۔ ممتاز دانشور پروفیسر ڈاکٹر ہمایوں احسان نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ اہل ایمان درحقیقت اساتذہ ہیں جو علم کی روشنی سے معاشرے کو منور کرتے ہیں۔ اگر اساتذہ کو ملک میں مرکزی حیثیت دی جائے تو وہ ملک دنیا میں مرکزی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا گو اساتذہ کرام بے شمار مشکلات کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ملک میں فکری وتعمیری انقلاب برپا کرنے کے لیے اپنا اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو محض حصول تعلیم کے لیے اساتذہ کے حوالے نہیں کرتے بلکہ وہ ملک و قوم کا مستقبل اساتذہ کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان پر سوالات کیے جا رہے ہیں لیکن بھوٹان اور نیپال پر سوال نہیں کیا جاتا حالانکہ وہ بھی پہلے ہندوستان کا حصہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ مسلمان ہندوئوں کے دھتکارے ہوئے تھے بلکہ پاکستان اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ مسلمان ایک قوم اور اپنی منفرد شناخت‘ پہچان اور تہذیب و ثقافت رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ایک ہزار برس تک ہندوئوں پر حکومت کی جبکہ ہندوئوں نے ایک دن بھی مسلمانوں پر حکومت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا رقبہ پاکستان سے زیادہ ہے لیکن بھارت غلطیوں پر غلطیاں کر کے اپنے ملک کو تقسیم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ مجید نظامی کی قیادت میں نظریۂ پاکستان کی روشنی قوم میں پھیلا رہا ہے اور وہ جذبہ قوم میں پیدا کرنے کے لیے شب و روز مصروف عمل ہے جس کا مظاہرہ تحریک پاکستان کے دوران کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ طاقت و جرأت کے حامل اور دنیاوی اور اسلامی علوم کے ماہر لوگ اب اس خطے میں پیدا ہونگے جہاں پاکستان بنے گا۔ چنانچہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستانی مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا حامل ملک پاکستان ہے۔ انڈس دریا جس کے نام پر اس برصغیر کا نام انڈیا رکھا گیا تھا اس کا ایک قطرہ بھی بھارت میں نہیں گرتا بلکہ یہ پاکستان میں ہی موجود ہے۔ میاں عزیزالحق قریشی نے کہا کہ پاکستان 14 اگست کو نہیں بلکہ 15 اگست کو معرض وجود میں آیا تھا اور اسی تاریخ کو 27 رمضان المبارک بھی تھا۔ 29 جون 1948ء کو وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہمارا یوم آزادی 15 اگست ہے اور اس سلسلے میں بہت سے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے انگریزی نہیں بلکہ مذہبی تاریخ اہمیت کی حامل ہے اور اس لحاظ سے 27 رمضان المبارک ہمارے لیے عزت و احترام کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ایک جملہ تواتر سے استعمال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو جدید اسلامی جمہوری و فلاحی ریاست بنائیں گے، انہوں نے کہا کہ اگر فلاحی ریاست کو دیکھا جائے تو امریکہ اور فرانس سمیت بہت سی مملکتیں فلاحی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ریاست بنیادی طور پر فلاحی ریاست ہی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام ہر زمانے کے لیے ہے اس لیے اسے قدیم اور جدید نہیں کہا جا سکتا تاہم زمانے کے بدلتے حالات کے تقاضوں اور ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اجماع کرنے کی اجازت اسلام نے دی ہے اور یہی اجماع اسلام کی جدیدیت ہے۔ جو چیز دین اسلام کے خلاف ہو گی تو وہ ہمارے لیے ہرگز قابل قبول نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ہمارا ازلی دشمن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں پاکستان نے سیف گیموں کا انعقاد کیا۔ میں نے اس لفظ کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ اس کا معانی سائوتھ ایشین فیڈریشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائوتھ ایشیا یعنی جنوبی ایشیا تو موجود ہے لیکن جنوبی ایشیا کی فیڈریشن کہیں موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح سارک تنظیم بھی اب ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مختلف پینترے بدل بدل کر ہمارا تشخص مٹانے کے درپے ہیں اور وہ کبھی سیف گیمز کا سہارا لیتا ہے تو کبھی سارک تنظیم کے طور پر ایسا کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے متشدد ہندو جماعت بی جے پی نے مسلمانوں کو دھمکی دی کہ وہ مکہ و مدینہ منورہ کو قبلہ کہنا چھوڑ دیں یا پھر وہاں ہی چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ نے قیام پاکستان کے بعد ایک صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت برابری کی سطح پر دوست اور ہمسایوں کی طرح رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان میں اپنی حمایت کے لیے ایک لابی تشکیل دی ہے جن میں ادیب‘ شاعر اور صحافی لوگ شامل ہیں۔ جب یہ بھارت دورے پر جاتے ہیں تو واہگہ بارڈر سے ہی بھارتی شراب کی بوتلوں کے منہ کھول دیتے ہیں اور دہلی پہنچنے تک وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ایک ایسی لابی بن چکی ہے جو یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ لڑائی میں ہم نے اسے ایٹمی طاقت بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق بھارتی وزیر خارجہ اور بی جے پی کے سینیئر رہنما جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں قائداعظمؒ کو عظیم لیڈر قرار دے دیا ہے لیکن درحقیقت یہ شخص پاکستان کا انتہائی مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو بھارت کے پاکستان کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈا سے آگاہ رہنا چاہئے اور اس سے اپنے طلبہ کو آگاہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ میں دنیا کے بہت سے ممالک میں جاتا ہوں لیکن مجھے سب سے زیادہ پاکستان آ کر ہی سکون محسوس ہوتا ہے۔ یہ ملک درحقیقت ہمارے لیے قدرت کا عظیم تحفہ ہے۔ پروفیسر مظفر مرزا نے کہا کہ ہم نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کو صرف پاکستان کا ٹرسٹ نہیں بلکہ عالم اسلام کا ادارہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر شرکاء نے مجید نظامی سے سوالات بھی کیے۔ ایک خاتون کے سوال کے جواب میں مجید نظامی نے کہا کہ یہ سیاسی رہنمائوں کا فرض ہے کہ وہ دو قومی نظریئے کو اپنی بنیاد تسلیم کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ آج قیامِ پاکستان کے 62 برس بعد صوبہ سرحدمیں سرحدی گاندھی کی جماعت برسراقتدار ہے اور سندھ میں بھی ایسے عناصر پائے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ میں نے نواز شریف سے یہ کہا ہے کہ وہ حکومت کی سپورٹ کرے اور اپنے وزیر واپس کریں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم وزارتیں لیے بغیر حکومت کی سپورٹ کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ لوگ ایک کلو چینی کے حصول کے لیے لاٹھیاں کھا رہے ہیں۔ رمضان المبارک میں اشیائے خوردونوش کی وافر فراہمی کرنے کی بجائے ان چیزوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے یہ ہماری حکومت کی نااہلی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ نظریۂ پاکستان کو ہر سطح پر نصاب میں شامل کیا جائے۔ حکومت نے اس سلسلے میں ہم سے وعدہ کیا ہوا ہے اور ہم اس پر ضرور عمل درآمد کرائیں گے۔ تقریب کے آخر میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے شرکاء کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان‘ قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒ اور مادرِ ملتؒ زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔