مستعفی پی سی او ججز کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے‘ نئی تقرریاں ہماری مشاورت سے کی جائیں

لاہور (وقائع نگار خصوصی) چاروں صوبائی بار کونسلوں اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 30اگست تک اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرریاں بارز کے صدور کی مشاورت سے مکمل کی جائیں‘ پی سی او ججوں کو کوئی کام نہ دیا جائے‘ جن پی سی او ججوں کے خلاف ریفرنسز ابھی تک سپریم جوڈیشل کونسل کو نہیں بھیجے گئے انہیں بھی بھجوایا جائے جبکہ مستعفی ہونے والے پی سی او ججوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے‘ تمام صوبائی بار کونسلز کے الکیشن 21نومبر کو ہوں گے۔ یہ مطالبات اور اعلان پنجاب بار کونسل میں صوبائی بار کونسلوں اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے مشترکہ اجلاس میں کئے گئے۔ صدارت چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل عارف کمال نون نے کی جبکہ صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ناصرہ جاوید اقبال‘ وائس چیئرمین سرحد بار کونسل احمد فاروق خٹک‘ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی سرحد بار جلال الدین اور وائس چیئرمین سندھ بار کونسل محمود الحسن نے شرکت کی۔ بلوچستان بار کونسل کے عہدیداروں نے فون پر فیصلوں کی تائید کی۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ مذکورہ اجلاس عدالت عظمیٰ کے 31جولائی کے فیصلے‘ پی سی او ججز کے خلاف ریفرنس‘ ہائیکورٹ کے ججوں کی تقرریاں اور بار کونسل کے انتخابات پر غور و خوض کے لئے طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس میں میڈیا کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانے‘ میڈیا اور وکلا کے درمیان سیشن کورٹ لاہور جیسے ناخوشگوار واقعات کے سدباب کیلئے ایک کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا گیا۔ اجلاس میں پی سی او ججوں کے خلاف سپریم کورٹ کے 14رکنی بینچ کے 31جولائی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ججوں کی تقرریاں اس فیصلے کی روح کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر کی جانی چاہئیں اور جس ضلع سے کسی وکیل کو جج مقرر کرنا ہو اس ضلع کی بار ایسوسی ایشن کے صدر سے بھی مشاورت لی جائے جبکہ عدلیہ پر شب خون مارنے کی صورت میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر تیار ہو جانے والے کسی شخص کا بطور جج تقرر نہ کیا جائے۔اجلاس میں مزید مطالبہ کیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل پی سی او ججوں کے خلاف کارروائی مکمل کرے اور جن کے ججوں کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کئے گئے ان کے خلاف چیف جسٹس ازخود نوٹس لے کر کاروائی شروع کریں ۔اجلاس میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسے تمام ریٹائرڈ جج جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا انکے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہیے ۔ہائیکورٹ کے علاقائی بینچوں میں پی سی او ججوں کی بجائے آزاد عدلیہ کا حصہ بننے والے ججوں کو مقرر کیا جائے تاکہ عدالتی نظام اور انصاف کا عمل متاثر نہ ہو ۔اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشن کی امداد جاری کی جائے ۔ تمام ممبران صوبائی بار کونسل کیلئے ضروری ہو گا کہ وہ اپنے واجبات 19ستمبر تک ادا کر دیں اور حتمی ووٹر لسٹ یکم اکتوبر کو جاری کر دی جائے گی۔ صرف ووٹر لسٹ میں شامل افراد ہی انتخابات میں حصہ لینے اور تائید کرنے کے مجاز ہونگے۔ ایسے وکلا کا انتخاب کیا جائے جو اہلیت‘ دیانت کے معیار پر پورا اتریں اور اس ضمن میں صوبائی بار کونسل کے وائس چیئرمین اور متعلقہ بار کے صدر سے بھی مشورہ کیا جائے۔