رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی میں شدید اضافہ‘ متعدد شہروں میں چینی کی قلت برقرار

لاہور (خبر نگار خصوصی+ نیوز رپورٹر+ خبرنگار+ نامہ نگاران+ ایجنسیاں) صوبہ بھر میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈ اؤن جاری ہے جبکہ متعدد شہروں میں لوگوں کو چینی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر رمضان المبارک کے آتے ہی خودساختہ مہنگائی کرنے والوں نے صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا۔ گذشتہ روز رمضان بازاروں‘ یوٹیلٹی سٹورز اور دیگر مارکیٹوں پر کئی گنا مہنگی اشیاء فروخت ہوئیں۔ تاجروں‘ دکانداروں نے سبزی اور پھلوں کی قیمتوں میں 5 روپے سے 15 روپے تک کا اضافہ کر دیا۔ مرغی کے گوشت میں 4 روپے کا اضافہ ہو گیا‘ سبزیوں آلو‘ ٹماٹر‘ پیاز‘ ادرک‘ لہسن‘ بند گوبھی‘ مٹر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مارکیٹ میں سموسہ پٹی اور بیسن کی قیمت میں فی کلو 10 روپے تک اضافہ ہوا۔ مارکیٹ میں چینی 52 روپے فی کلو تک فروخت ہوئی جبکہ یوٹیلٹی سٹور پر 38 روپے فی کلو تک فروخت ہوئی جہاں چینی نایاب رہی‘ شہری چینی کے حصول کے لئے خوار ہوتے رہے۔ شہر کے متعدد حصوں میں مرغی کا گوشت 165 اور بعض جگہوں پر 180 روپے فی کلو تک فروخت ہوا۔ جی این آئی کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف چینی کی قیمتیں 45 روپے کلو مقرر کیے جانے کے بعد لاہور‘ راولپنڈی اور پشاور کی مارکیٹوں سے چینی غائب کردی گئی۔ دریں اثناء وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 20 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران بھی مہنگائی کا سیلاب جاری رہا اور مجموعی طور پر 17 اشیاء جن میں پیاز، ٹماٹر، چائے، دال مسور اور دال مونگ، دال ماش، گوشت، چاول، ایندھن، ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر صوبہ بھر میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف آپریشن کریک ڈائون کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عوام الناس کو رمضان پیکج کے تحت آٹے‘ چینی دیگر اشیاء ضروریہ کی ارزاں نرخوں پرفراہمی کیلئے بھی بھرپور اقدامات جاری ہیں نیز اس ضمن میں گذشتہ روز مہنگائی‘ ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی کیلئے صوبہ بھر کے مختلف شہروں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اس دوران پنجاب بھر کی 930 مارکیٹوں پر چھاپے مار کر 308 افراد کو گرفتار‘ 199 مقدمات کا اندراج اور 960 افراد کو 10 لاکھ 35 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا جبکہ حکومت پنجاب کے ترجمان نے بتایا ہے کہ صوبہ بھر میں کسی بھی جگہ آٹے یا چینی کی کسی قسم کی کوئی قلت نہیں جبکہ آٹا و چینی وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ جبکہ ڈائریکٹر خوراک پنجاب محمد شہریار سلطان نے کہا کہ صوبہ بھر میں کسی بھی جگہ کسی بھی جگہ کسی فلور ملز نے آٹے کی سپلائی روکنے کے حوالے سے معذوری کا اظہار نہیں کیا۔ دریں اثناء وہاڑی‘ سلانوالی‘ بھیرہ‘ فیصل آباد میں لوگوں کو چینی کے حصول میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ رمضان بازاروں میں آٹے اور چینی کی قلت رہی۔ کمالیہ کے رمضان بازار میں صارفین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق چینی کی قیمتوں پر وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گوجرانوالہ کے تاجروں نے چینی کی سپلائی مکمل طور پر بند کردی ہے جس کی وجہ سے شہری چینی کے حصول کیلئے خوار ہوکر رہ گئے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سستے رمضان بازاروں میں چینی کی فروخت آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ دریں اثناء کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں چینی کی فی کلوگرام قیمت 50 روپے سے بڑھ کر 60 روپے جبکہ پنجگور اور مستونگ میں 70 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے جبکہ جڑانوالہ سے نامہ نگار کے مطابق ڈی ڈی او آر جڑانوالہ خالد محمود خاں نے مقامی شوگر ملز کا چینی کا گودام سیل کردیا۔ دریں اثناء سستے آٹے اور سستی چینی کی فروخت نے ضلعی اور ٹائون انتظامیہ کو مفلوج کرکے ر کھ دیا۔ شہر کا ہر افسر اور ماتحت ٹرکوں کو شہر کے مختلف حصوں میں پہنچانے‘ وہاں چینی اور آٹا فروخت کروانے میں مصروف ہے۔ باقی ماندہ افسران اور ماتحت رمضان بازاروں پر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ ضلعی حکومت اور ٹائونز کے افسران حتیٰ کہ ٹائون پلانرز تک رمضان ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جس سے ٹائون کے دفتر میں ہر کام بند ہوچکا ہے حتیٰ کہ تجاوزات اور غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن بھی رک چکے ہیں۔ دریں اثناء ذخیرہ اندوزوں نے اپنے ملازمین اور کرائے پر حاصل کردہ افراد کو قطاروں میں لگا رکھا ہے۔ دوسری طرف ایم این ا ے‘ ایم پی اے اور مسلم لیگ کے مقامی لیڈر و کوآرڈینیٹر افسران پر دبائو ڈال کر اپنے ’’بینر‘‘ تلے آٹے اور چینی کی فروخت کے کام میں مصروف ہیں جبکہ ان کے مخالفین کا یہ بھی الزام ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے یہ بااثر افراد خود بھی آٹے اور چینی کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہیں۔دریں اثناء وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر صوبہ کے تمام اضلاع میں لگائے گئے رمضان بازاروں اور ٹرکنگ پوائنٹس پر محکمہ خوراک نے گذشتہ 20 کلوگرام کے 5 لاکھ 43 ہزار 321 آٹے کے تھیلے بھجوائے جن میں سے 5 لاکھ 39 ہزار 897 تھیلے فروخت ہوئے جبکہ 3424 آٹے کے تھیلے خریدار نہ ہونے کے باعث واپس بھجوائے گئے۔