دریائے سندھ میں طغیانی‘ متعدد دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے

ڈیرہ غازیخان+ اٹھارہ ہزاری (نامہ نگاران+ آن لائن) دریائے سندھ نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازیخان میں تباہی مچا دی‘ سیلابی کٹائو سے متعدد دیہات اور بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ قیمتی سامان اور ہزاروں مویشی بھی ریلے کی نذر ہو گئے۔ کپاس اور تل کی فصلیں بھی تباہ ہو گئیں۔ سیلابی کٹائو سے گومل یونیورسٹی کے زیر آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا۔ دائودخیل میں کئی علاقے سیم کے پانی میں ڈوب گئے۔ چشمہ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کا بہائو 2لاکھ 45ہزار 800 کیوسک فٹ تک پہنچ گیا۔ سیلاب کی بروقت اطلاع نہ دینے پر لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا‘ ہزاروں افراد نقل مکانی کر گئے۔ سیلابی کٹائو کی وجہ سے بستی اسیر‘ ستریلی اور بستی بچڑی اور دیگر قریبی آبادیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں‘ ہزاروں ایکڑ اراضی دریا برد ہو گئی‘ گورنمنٹ پرائمری سکول جھوک لدھو بھی بہہ گیا۔ دریائے کابل میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا‘ تحصیل تونسہ شریف میں دریائے سندھ کا سیلابی ریلا داخل ہونے کے بعد 55 سے زائد دیہات مکمل طور پر زیرآب آ گئے۔ دریائے جہلم و چناب میں آنے والے سیلابی ریلوں نے تحصیل جھنگ کے دریائی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی۔ درجنوں کچے مکانات اور جھونپڑیاں دریابرد ہو گئیں۔ منڈی شاہ جیونہ کے گردونواح میں شدید بارش اور راجباہ مسن نہر میں کئی جگہ شگافوں نے تباہی مچا دی‘ بارش کے باعث دیوار گرنے سے ایک لڑکا جاں بحق ہو گیا۔