مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی نئی لہر بھارت کیلئے زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے : وائس آف امریکہ

واشنگٹن (کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران نہ صرف آزادی کی تحریک مزید زور پکڑ گئی ہے بلکہ کشمیریوں کی سوچ میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ جدوجہد آزادی کے طریقے بھی بدلنے لگے ہیں اور اس کی حالیہ مثال وہاں ہونے والے تازہ احتجاجی سلسلے ہیں۔ وائس آف امرےکہ نے مبصرین کے حوالے سے کہا کہ آزادی کی یہ نئی لہر بھارت کے لئے پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ 2007ءمیں مجموعی آبادی کے نصف سے بھی کم لوگ ایسے تھے جو کشمیر کو آزاد ریاست کی حیثیت سے دیکھنے کے متمنی تھے تاہم آج اس تعداد میں 19 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ رواں سال 11 جون سے شروع ہونےوالا کشمیریوں کا احتجاجی سلسلہ تاحال جاری ہیں اور اس میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ اس صورتحال پر بھارت کے صحافی کلدیپ نیر کا کہنا ہے کہ\\\" وقت کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کے جذبات کی حدت اور شدت دنوں بڑھ گئی ہیں۔