مسلم لیگ ن کے بغیر لیگی دھڑوں کا اتحاد موثر نہیں ہو سکتا: عطا مانیکا

لاہور (سلمان غنی) مسلم لیگ ہمخیال پنجاب کے سربراہ اور پنجاب اسمبلی میں فارورڈ بلاک کے رہنما میاں عطا مانیکا نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے بغیر مسلم لیگوں کا کوئی اتحاد موثر اور کارگر نہیں ہو سکتا۔ چودھری شجاعت خاص اشارے پر پیر پگاڑا کے پاس گئے جو خود کہتے ہیں کہ میں جی ایچ کیو کا آدمی ہوں۔ چودھری صاحبان اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتے‘ 5 سال تک مشرف کے اقتدار کے ثمرات سمیٹنے اور وزیراعظم‘ وزیر اعلیٰ بننے والوں نے مشرف کا اقتدار جاتے ہی منہ پھیر لیا اور اب آل پاکستان مسلم لیگ کراچی میں بنے یا لندن میں مقصد مسلم لیگ (ن) کے ووٹ اور مقبولیت پر اثرانداز ہونا ہے۔ ملک کے اندر جاری افواہوں کا عمل بتا رہا ہے کہ دال میں کالا ضرور موجود ہے‘ باریک عمل شروع ہو چکا ہے۔ ان ہاوس تبدیلی اس لئے ممکن نہیں کہ مسلم لیگ (ن) مخالفت کرتی ہے تو پنجاب حکومت بھی متاثر ہو گی اور پنجاب حکومت سے پیپلز پارٹی نکلتی ہے تو پھر حکومت کے پاس اکثریت نہیں رہے گی اور فارورڈ بلاک قانوناً ووٹ کاسٹ نہیں کر سکے گا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کے نام پر جمہور سے مذاق ہوتا رہا اور آج بھی عوام کی حالت زار اس پر گواہ ہے‘ سیاسی جماعتیں اشاروں پر چلتی ہیں آج اس کی ابتدا ہو چکی ہے اور لگتا یہی ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کو جواز بنا کر پہلے ایم کیو ایم حکومتی کشتی سے چھلانگ لگائے گی۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام ”اگلا قدم“ میں سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی تھے۔ میاں عطا مانیکا نے ایک سوال پر کہا کہ پنجاب میں گورنر راج چودھری صاحبان کے سگنل پر لگا تھا مگر ہم نے ان کے تعویذ الٹ کر دئیے اور جرات مندی دکھا کر پیپلز پارٹی کا تسلط قائم نہیں ہونے دیا جو چودھری صاحبان چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کارکردگی کی وجہ سے عوام جنرل مشرف کے دور کو یاد کرنے لگے ہیں لیکن وہ واپس نہیں آ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف جتنا محنتی‘ دیانتدار اور جفاکش وزیر اعلیٰ پنجاب کو نہیں مل سکتا جس شخص کے دل میں غریب کے لئے درد ہے لیکن نہ جانے کیوں وہ ہر کام خود کرنا چاہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سسٹم نہیں چل رہا۔ انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی سیلاب زدگان کے امدادی عمل سے بھی کروڑوں بنا رہی ہے جس کے ثبوت میں وزیر اعلیٰ کو دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی سسٹم کا حامی ہوں یہ بننا چاہئے۔ انہوں نے کالا باغ ڈیم کے حوالہ سے ایک سوال پر کہا کہ یہ تو اندھے کو بھی پتہ ہے کہ کالا باغ ڈیم ہوتا تو سیلاب سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی نہ ہوتی۔ گورنر پنجاب کالا باغ ڈیم پر پریس کانفرنسیں کرنے کی بجائے اپنی قیادت کو اس پر آمادہ کریں‘ یہ بیانات اعلانات سے نہیں اقدامات کرنے سے بنے گا۔