سوات آپریشن کے نتیجہ خیز ہونے سے پہلے سیاسی عمل شروع کیا جائے: اسلم بیگ

لاہور (سلمان غنی) مسلح افواج کے سابق سربراہ ، ریٹائرڈ جنرل مرزا اسلم بیگ نے کہا ہے کہ صدر زرداری کی جانب سے سوات کے بعد وزیرستان میں آپریشن کی بات امریکی ایجنڈا ہے اورامریکی ایجنڈا کے تحت نئی حکمت عملی کے تحت افغانستان سے معاملات اب ڈائیلاگ کے ذریعہ جبکہ میدان جنگ پاکستان کوبنایا جا رہا ہے اور امریکہ اب اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ پختون بلٹ کو سمجھتا ہے اور ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ان کی طاقت کو توڑنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ مسلح افواج کا ایکشن کامیاب ہو چکا ہوتا اگر جلدی میں نہ ہوتا جلدی کے نتیجہ نے ایک نہیں کئی بحرانوں کو جنم دیا ہے لہذا اب ضرورت ہے کہ آرمی ایکشن کے نتیجہ خیز ہونے سے پہلے سیاسی عمل شروع کرایا جائے مشرقی پاکستان میں 25 مارچ سے 25 جولائی تک آرمی ایکشن مکمل ہوچکا تھا فوج نے اسلام آباد کو سیاسی عمل شروع کرنے کا سگنل دیا لیکن سیاسی عمل شروع کرنے کی بجائے کہا گیا کہ بنگالی بھاگ رہے ہیں اور ملک ٹوٹ گیا۔ اب ڈیورنڈر لائن کے ساتھ پختون علاقوں میں سیاسی عمل شروع نہ کیا گیا تو پھر ہم ایک اور حادثے سے دوچار ہوں گے۔ ہوش کے ناخن لیں اور صرف طاقت پر اعتماد نہ کریں۔ ورنہ ہمیں کسی اور گڑھے میں گرنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ وہ نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں بھی سیاسی عمل پر پیش رفت کی بات نہ ہوئی ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ صفایا کر دیں میں سمجھتا ہوں کہ اصل خطرہ تو وہ ہے جس سے آنے والے مہینوں میں ہم دوچار ہونے والے ہیں۔ فوج کے ذریعہ ایکشن اور صفایا حل نہیں اور بدقسمتی سے صدر زرداری نے دورہ امریکہ سے قوم کو یہ مژدہ سنا دیا کہ وزیرستان میں بھی بڑھیں گے اور لوگ ابھی سے وہاں سے بھاگنا شروع ہو گئے یہ نہ جانے کس کس پر ہاتھ ڈالیں گے۔ سیاسی عمل کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ خدانخواستہ ہم کسی اور 1971جیسے سانحہ سے دوچار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بے شک آرمی ایکشن کا جواز موجود تھا بھارت اور افغانستان یہاں اپنا اپنا کھیل کھیل رہے تھے صوفی محمد اور فضل اللہ آئین قانون اور عدالتوں کے خلاف سرگرم ہوگئے اصل مسئلہ قومی ایکشن کے بعد جمہوری عمل کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے جنگ پاکستان میں شفٹ کرنے کے مقاصد کیا ہیں امریکی عزائم کیا ہیں ہمیں اور سب کچھ جاننا اور سمجھنا چاہئے اور یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہمارے اپنے مفادات کیا ہیں کیا ہمپختون بلٹ کے مکینوں کو تر نوالہ بنا دیں اس لئے کہ یہ پختون امریکی مظالم کے خلاف سرگرم رہے ہیں انہیں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ لیکن امریکہ شاید پختونوں کی تاریخ سے واقف نہیں لیکن ہمیں قومی ایکشن کی بجائے سیاسی صورتحال پر پیش رفت کرنی چاہئے۔
اسلم بیگ