حکمرانوں‘ اعلیٰ افسروں کے گھروں میں بجلی کی مسلسل فراہمی‘ لوڈشیڈنگ غریبوں کا مقدر بن گئی

لاہور (ندیم بسرا سے) پیپکو حکام نے ملک کی اعلیٰ شخصیات اور ان کی سرکاری وغیر سرکاری رہائش گاہوں کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنی قرار دے کر دبائو غریب صارفین پر ڈال دیا۔ وزارت پانی وبجلی کے ذرائع کے مطابق ایوان صدر، وزیراعظم ہائوس، سیکرٹریٹ کو سات مختلف ذرایع سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ متبادل کے طور پر دو اضافی گریڈ سٹیشن بھی کسی بھی پاور شارٹیج پر قابو پانے کے لئے تیا ر رہتے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ، گورنرز ہائوسز کو 4 مختلف سورسز سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ لاہور میں جی اور آر جیسی ملک بھر کی 350 سرکاری رہائشی کالونیوں کو آزاد فیڈروں سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ بجلی کی بندش کا سارا دبائو چھوٹے پسماندہ شہروں اور قصبوں پر ڈال دیا گیا ہے جہاں 14 سے 16 گھنٹے تک بجلی بند کی جاتی ہے جبکہ اہم شخصیات اور افسر مجموعی طور پر سسٹم کا 585 میگاواٹ بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ شہری سوال کرتے ہیں کہ اگر ایک عام پاکستانی کے گھر کی بجلی جاتی ہے تو اس ملک کے صدر کے گھر کی بجلی بھی جانی چاہئے۔
لوڈشیڈنگ