پاکستان مےں جمہوری حکومت کی مضبوطی سے شدت پسندی کم ہوسکتی ہے: گراسمین

واشنگٹن (آئی این پی) امریکی خصوصی ایلچی برائے افغانستان و پاکستان مارک گراسمین نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کی مضبوطی سے شدت پسندی میں کمی آسکتی ہے ، ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ کی ہلاکت نے القاعدہ کو شکست دینے کا موقع فراہم کیا۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مارک گراسمین نے کہا کہ القاعدہ کو شکست دینے کیلئے پاکستان اور افغانستان سمیت دیگرممالک کا تعاون حاصل ہے، فاٹا کیلئے حالیہ پارٹیز آرڈر کے اجرا کے متعلق ایک سوال پر مارک گراسمین نے کہا کہ اسی اقدام سے جمہوریت مضبوط ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں سویلین حکومت کی حمایت کرتا ہے اور جمہوریت کی مضبوطی سے شدت پسندی میں کمی آسکتی ہے۔ گراسمین نے کہا کہ لاہور سے امریکی شہری کا اغوا انتہائی ظالمانہ فعل ہے۔اغوا کاروں کے بارے میں ابھی کوئی اطلاع نہیں ملی۔وارن وائنس ٹائن کا پتہ چلانے کےلئے پاکستانی اور امریکی حکام میں بھرپور تعاون ہے۔مارک گراسمین نے کہا کہ امید ہے کہ پاکستان افغانستان میں مصالحتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں پاکستان نے افغان مصالحت عمل کی حمایت کی ہے۔ مارک گراسمین نے کہا ہے کہ جمہوری پاکستان کی حمایت کرتے ہیں اس سے شدت پسندی کے خاتمے مدد ملے گی ۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اتارچڑھاو¿آتا رہتا ہے تاہم پاکستان میں جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ایک خوش آئند عمل ہے۔جمرود میں مسجد میں حالیہ خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے گراسمین نے کہا کہ ماہ رمضان میں لوگوںکا قتل عام بربریت کا فعل ہے۔این این آئی کے مطابق گراسمین نے قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کو سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کا اثرورسوخ کم ہوگا۔ پاکستان اور بھارت تعلقات بہتر بنائیں دونوں ملک افغانستان کےساتھ ملکر وسطی اور جنوبی ایشیاء کے درمیان تجارت کا قدیم روٹ بحال کر سکتے ہیں۔
گراسمین