مشرف کشمیر کی بجائے مسئلہ فلسطین کا حل چاہتے تھے: ٹونی بلیئر کا انکشاف

لندن (آئی این پی) برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ پاکستانی ملٹری ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویز مشرف سے لندن میں نومبر 2009ءکے حملوںکے بعد اسلام آباد ملنے گئے تھے تو اس وقت ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہیں وردی پہنے صدر پاکستان نے بتایا کہ وہ بھارت کے ساتھ کشمیر کے مسئلہ کے حل کی بجائے اسرائیلیوں کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ حل کرانے میں دلچسی رکھتے ہیں۔ جنرل مشرف کے بارے میں یہ حیران کن انکشاف ٹونی بلیئر نے اپنی آپ بیتی Journey Aمیں کیا ہے۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ 700 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ٹونی بلیئر نے صرف دو جگہوں پر جنرل مشرف کا ذکر کیا ہے۔ ٹونی بلیئر نے لکھا ہے کہ امریکہ پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد وہ پوری دینا میں خود جا کر افغانستان پر حملے کے لیے راہ ہموار کر رہے تھے اور لیڈروں سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ ٹونی بلیئر نے لکھا ہے کہ ” جب ہم اسلام آباد ائرپورٹ سے روانہ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ سڑکیں اور دکانیں بند تھیں تاہم سڑک کے کنارے بہت سارے لوگ کھڑے تھے۔ مردوں نے سفید کپڑے جب کہ عورتوں نے زیادہ تر نقاب لیا ہوا تھا۔ ان کی آنکھوں میں نہ تو دوستی اور نہ ہی دشمنی کی جھلک نطر آ رہی تھی“۔”مجھے فوراجنرل مشرف کے صدراتی محل میں لے جایا گیا۔ ایک بات جو میں نے خاص طور پر محسوس کی کہ جنرل مشرف اور دیگر کے ساتھ جتنی بھی میٹنگز ہوئیں اور ہر دفعہ کوئی ملاز م ہمارے لئے کھانے پینے کی چیزیں لے کر آیا، اس کے ساتھ جنرل مشرف کا باڈی گارڈ ہر وقت ساتھ آتا اور اس ملازم پر آنکھ رکھتا“۔ ٹونی بلیئر کے بقول ”جنرل مشرف نے ایک ایسی بات مجھے بتائی جس کا مجھے برسوں بعد احساس ہوا۔ مشرف نے بتایا کہ جنرل ضیاء نے 1980ءکی دہائی میں ایک بہت بھیانک غلطی کی تھی جب انہوں نے پاکستانی نیشنل ازم کو اسلام کے ساتھ جوڑ دیا۔ اس طرح جنرل ضیاء نے فوجی اور سیاسی لیڈر کے ساتھ ساتھ ایک مذہبی لیڈر کا بھی کردار اخیتار کر لیا تھا اور وہ اپنے ملنے والوں کو بڑے فخر سے اپنی پیشانی پر نماز پڑھنے کی وجہ سے پڑنے والا نشان دکھاتے تھے۔ جنرل مشرف نے وضاحت کی کہ جنرل ضیاء کی اس حرکت سے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسند ی کو ہوا ملی تھی۔ اس پالیسی سے جہاں کشمیر کے مسئلہ نے شدت کے ساتھ سر اٹھایا تھا ، وہاں انڈیا کے ساتھ تعلقات اور صلح کو بھی مشکل بنا دیا۔اس مرحلہ پر ٹونی بلیئر نے جنرل مشرف کو کہا کہ یقیناًپاکستان کو سب سے بڑا چیلج معاشی ترقی کا ہے۔ جنرل مشرف نے جواب دیا کہ” آف کورس لیکن حقیت یہ ہے کہ آج بھی پاکستان کی سیاست نیوکلیر ہتھیاروں اور کشمیر کے گرد ہی گھومتی ہے“۔ ٹونی بلیئر کے مطابق ”میں نے مشرف سے پوچھا کہ پھر آپ بتائیں کہ ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟“۔ ٹونی کا خیال تھا کہ جنرل مشرف انہیں کہیں گے کہ پاکستان کو معاشی مدد چاہیے یا پھر وہ کہیں گے کہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ جھگڑے طے کرائیں جائے۔ لیکن جنرل مشرف نے فورا جواب دیا ’ آپ فلسطین کا مسئلہ حل کرادیں اس سے ہمارا مسئلہ کافی حل ہو جائے گا “۔
ٹونی بلیئر