سپریم کورٹ بار کے انتخابات کیلئے مہم فیصلہ کن مرحلہ میں داخل

لاہور (خبرنگار خصوصی) سپریم کورٹ بارکے 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کیلئے مہم فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ صدارتی امیدواروں میں احمد اویس، عاصمہ جہانگیر اور چودھری اکرام شامل ہیں اور اس امر کا امکان ہے کہ براہ راست مقابلہ احمد اویس اور عاصمہ جہانگیر کے درمیان ہوگا۔ بظاہر تینوں امیدوار عدلیہ کی آزادی اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کے حامی ہیں۔ حالات بتا رہے ہیں کہ سپریم کورٹ بار کے انتخابات کے اثرات حکومت، عدلیہ اور عدالتی فیصلوں پر پڑیں گے۔ بظاہر یہ انتخابات وکلا کے انتخابات ہیں لیکن بالواسطہ طور پر ان میں حکومت اور سیاسی جماعتیں بھی سرگرم عمل نظر آرہی ہیں۔ وقت نیوز کے پروگرام نیوز ڈیسک میں سپریم کورٹ بار کے الیکشن کے حوالے سے ہونے والے پروگرام جس کے میزبان سلمان غنی تھے جبکہ اسلام آباد ڈیسک سے وقت نیوز کے ہیڈ آف نیوز صابر شاکر اور کراچی ڈیسک سے کنٹرولر نیوز سالک مجید نے سپریم کورٹ بار کے الیکشن پر اپنا تجزیہ دیا۔ لاہور ڈیسک میں بار کی صدارت کے امیدوار احمد اویس مہمان تھے۔ احمد اویس کا کہنا تھا کہ بارکے تمام سابق صدور عاصمہ جہانگیر کی حمایت نہیں کر رہے، حامد خان ایڈووکیٹ کا گروپ میری حمایت کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ یا چھوٹی عدالتوں کے ججز کسی بھی امیدوار کی حمایت کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ بارکی صدارت حاصل کرنے کے بعد بھی ہم آزاد عدلیہ اور رول آف لاءکے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں سپریم کورٹ کے مستقل بنچ قائم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کو حکومتی حمایت حاصل ہے کیونکہ عاصمہ نے زرداری کے صدر بننے کے بعد مائنس ون یعنی افتخار چودھری کے سوا باقی ججز کی بحالی کی حمایت کی تھی۔ سپریم کورٹ بارکی صدارت کے ایک اور امیدوار اکرام چودھری ایڈووکیٹ نے ٹیلی فون لائن پر پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر حکومتی امیدوار ہیں جبکہ احمد اویس ایڈووکیٹ اسٹیبلشمنٹ کے امیدوار ہیں۔ اکرام چودھری کا کہنا تھا کہ ان کا بار کی صدارت کے حوالے سے تین نکاتی ایجنڈا ہے۔ ہم عدلیہ کی آزادی اورآئین کی بالادستی کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار منیر اے ملک نے نیوز ڈیسک میں اظہار خیال کرتے ہوئے تینوں امیدواروں کو آزاد عدلیہ کاحامی قرار دیا اور کہا کہ تینوں میں سے کوئی بھی امیدوار جیت کر آزاد عدلیہ کا دفاع کرے گا۔ اسلام آباد ڈیسک سے صابر شاکر نے بارکے الیکشن سے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر بارکے سابق صدور عاصمہ جہانگیر کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے زیادہ تر ججز احمد اویس ایڈووکیٹ کی حمایت کر رہے ہیں۔ کراچی ڈیسک سے سالک مجید نے کہا کہ اس دفعہ سپریم کورٹ بار کے صدارتی امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہونے کی توقع ہے۔ پروگرام میں شرکت کیلئے عاصمہ جہانگیر کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن انہوں نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔ پروگرام نیوز ڈیسک کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور عاصم ڈوگر تھے جبکہ اسسٹنٹ پروڈیوسر حارث محمد انصاری تھے۔