سفاری پارک لاہور میں کرپشن اور بدانتظامی کا انکشاف

لاہور (رپورٹ: اشرف چودھری) لاہور سفاری پارک کے حکام نے افسران بالا کے آنکھوں میں دھول جھونک کر قیمتی جانوروں کی جانوں سے کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ سفاری پارک حکام نے قیمتی شیروں کوبیمارجانوروں کا فریز شدہ گوشت ڈالنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے شیر مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سفاری پارک کے حکام نے اطراف میں لگے بانس کے درخت کاٹ کر غیر قانونی طور پر انہیں فروخت کر دیا ہے لیکن سرکاری خزانے میں ایک روپیہ بھی جمع نہیں کرایا گیا ہے۔ لاہور سفاری پارک کے سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ انتظامیہ ملی بھگت سے شیروں کے لیے خریدا جانے والا گوشت غیر معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ رات بھر فریزر میں پڑا رہنے کی وجہ سے جانور اس گوشت کو منہ تک نہیں لگاتے ہیں۔ سفاری پارک کے ایک شیر کے سر میں زخم ہو گیا ہے لیکن اس کا کوئی علاج نہیں کیا جا رہا۔ جس کی وجہ بتائی جاتی ہے کہ ایسا ملازم کوئی نہیں ہے جو شیر کو پکڑ کر اس کے سر پر دوائی لگا سکے۔ انتظامیہ کی طرف سے جھیل میں موجود مچھلیوں کو جراثیم اور بیماریوں سے بچانے کے لیے جھیل میں دوائی ڈالی تھی جس کے باعث جھیل میں موجود مچھلیاں بڑی تعداد میں ہلاک ہو گئیں۔ سفاری پارک کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انچارج سفاری پارک نے کاٹے گئے بانس بھاری مالیت میں فروخت کیے ہیں جبکہ پارک میں موجود کنٹین جس کا ٹھیکہ جون 2010ءمیں ختم ہو گیا تھا نیا ٹھیکہ نہ ہونے کے باوجود پرانا کنٹریکٹر انتظامیہ کی ملی بھگت سے بدستور کنٹین کو چلا رہا ہے اور من مانے ریٹس پر اشیاءفروخت کی جا رہی ہیں۔ سفاری پارک میں موجود جھولے بھی ٹوٹے ہوئے ہیں جبکہ صفائی کا نظام بھی انتہائی ناقص تھا۔