ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں 350 روپے بوری اضافہ‘ ریٹ 2300 روپے ہو گیا

لاہور (نیوز رپورٹر) کھاد بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ملی بھگت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی کے باعث ڈی اے پی بوری کی قیمت 350 روپے کے اضافے سے 23 سو روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کے باعث سورج مکھی ،گنا اور مکئی کی فصلات سے مطلوبہ اہداف حاصل کرنا ناممکن نظر آرہاہے۔ جس پر کسانوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کھاد تیار کرنے والی کثیرالملکی کمپنیوں کی جانب سے اضافے کے بعد اب مارکیٹ میں 1950روپے میں بکنے والی بوری اب 23سو روپے میںفروخت ہونے لگی ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگے داموں ڈی اے پی کی دستیاب اور پانی کی شدید قلت کے باعث کسان شدید مشکلات کا شکار ہے جس سے مستقبل قریب میں ناصرف چینی فی کلو نرخ بڑھیں گے بلکہ کھانے کے تیل کے نرخوں میں بھی اضافہ ہو جائے گااور فی ایکڑ پیداوار دس سے پندرہ فیصد تک کمی آئے گی۔ ماہرین کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کاشتکار کو اصل قیمت پر ڈی اے پی کے تھیلے کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے ۔