فرینڈز آف پاکستان نے 2 ارب میں سے صرف 60 کروڑ ڈالر دیئے : حنا ربانی کھر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نیوز ایجنسیاں) وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کی وجہ سے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے 421 ارب روپے کے فنڈز میں 146 ارب روپے کی کٹوتی کی جائیگی۔ بجلی کی سبسڈی پر 60 ارب دئیے گئے جبکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 110 ارب روپے کے اضافی اخراجات آئے۔ دفاعی بجٹ میں کمی نہیں کی جا سکتی۔ فرینڈز آف پاکستان نے 2 ارب ڈالرز کے مقابلے میں صرف 60 کروڑ ڈالرز دئیے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے اجرا سے آئندہ مالی سال میں پی ایس ڈی پی کی رقم صوبے برداشت کرینگے۔ یہ پالیسی بیان انہوں نے آفتاب شیرپاﺅ اور ہمایوں سیف اللہ کے توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے دیا۔ محرکین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرے‘ ترقیاتی فنڈز میں کمی ناانصافی ہے جبکمہ وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ نیب نے اپنے آغاز سے اب تک 2 کھرب روپے سے زائد کی کرپشن میں ملوث 1470 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان میں سیاستدان‘ سرکاری ملازمین‘ بنکار اور دیگر افراد شامل ہیں۔ 1470 افراد میں سے 108 پبلک آ فس ہولڈرز کے کیسوں کو این آر او 2007ءکے تحت ختم کیا گیا تھا۔ این آر او کے تحت ختم کئے گئے کیسوں کو دوبارہ شروع کیا جائیگا۔ وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کہا کہ ملک میں کنٹونمنٹ بورڈز کی اراضی پر 12467 قابضین ہے اور ان میں سے سب سے زیادہ لاہور میں 808 ہے‘ ان قابضین سے اراضی خالی کرانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر پٹرولیم سید نوید قمر نے کہا کہ ایران کیساتھ گیس پائپ لائن سمجھوتے پر دس مارچ تک دستخط متوقع ہیں۔ منصوبہ چار سال میں مکمل ہو گا۔ وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان نے کہا کہ دریاﺅں سے زرعی مقاصد کیلئے حاصل کیا جانیوالا پانی انسانی صحت کیلئے مضر ہے۔ اے این این کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو دن ساڑھے دس بجے ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے بعد مسیحی رکن اسمبلی اکرم مسیح گل نے نکتہ اعتراض پر مطالبہ کیا کہ ہفتے میں ایک دن اسمبلی اجلاس کی کارروائی بائبل پڑھکر شروع کی جائے اس سے اقلیتوں کو احساس تحفظ ملے گا۔ مولوی عصمت اللہ نے جواباً کہا کہ یہ مطالبہ خلاف اسلام و آئین ہے‘ کل ہندو بھی مطالبہ کریں گے کہ ان کی مقدس کتاب پڑھ کرکاروائی شروع کی جائے۔ خرم دستگیر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ٹائم فریم سے ایوان کو آگاہ کیا جائے۔ 25 ہزار پاکستانی اس جنگ میں جانیں دے چکے ہیں ایوان سے حقائق نہ چھپائے جائیں۔ فوزیہ اعجاز نے کہا کہ ہمیں اقلیتوں کا احترام ہے مگر کیا برطانوی یا امریکی پارلیمنٹ کی کارروائی قرآن پاک کی تلاوت سے شروع ہو سکتی ہے۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ سندھ کو اس کا حق ملنا چاہئے۔ سندھ سراپا احتجاج ہے چشمہ جہلم لنک کینال بند کی جائے۔ وزیر بین الصوبائی رابطہ آفتاب شاہ جیلاتی نے وضاحت کی کہ وزیراعظم کی زیر نگرانی معاملات حل کئے جا رہے ہیں۔ سندھ اور پنجاب کے نمائندوں نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ معاملہ جلد حل کر لیا جائیگا۔ ثناءنیوز کے مطابق مہرین انور راجہ نے بتایا کہ عوام کوفوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے 2009-10 میں اعلی عدالتوں میں72 ججز کی تقرری کردی گئی ہے اس طرح احتساب عدالتوں میں 11 ججوں کی تقرری کی گئی ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں 6 آرڈیننس پیش کئے۔ شکیلہ خانم رشید کے سوال کے جواب میں وزیر پوسٹل سروسز میر اسرا راللہ زہری نے کہا کہ پوسٹل چارجز میں اضافہ کردیا گیاہے ان میں خطوط ،پوسٹ کارڈز ، پارسل ، رجسٹرڈ اخبارات کی مد میں 100 فیصد ، درسی کتب کے علاوہ مطوبہ کاغذات کی ترسیل کے لیے 31 فیصد چھوٹے پیکٹ 77 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ماروی میمن کے سوال کے جواب میں وزیر دفاع چوہدری احمد مختار نے کہا کہ جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ کراچی میں اے ڈی ای ۔ 651 نامی آلہ نصب نہیں کیا گیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی بھی اس دوران ایوان میں پہنچ گئے ۔ حکومتی اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ چاہتی ہے کہ بجلی پر سبسڈی ختم کرکے پی ایس ڈی پی میں ڈال دیا جائے اور پی ایس ڈی پی میں کٹوتی نہ کی جائے تو ہم تیار ہیں۔ رینٹل پاور پروجیکٹس کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں ایک پیسے کا اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔