جون میں بجلی مزید مہنگی ہوگی‘ دہشت گردی کیخلاف جنگ پر 290 ارب روپے اضافی خرچ ہوں گے : وزیر مملکت

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + لیڈی رپورٹر + نیوز ایجنسیاں) سینٹ میں دوسرے روز بھی مہنگائی پر بحث ہوئی اور وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے بتایا کہ جون میں بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی جبکہ حکومتی سینیٹر رضا ربانی نے گذشتہ دور حکومت میں برطرف کئے گئے ملازمین کی بحالی میں تاخیر پر اپنی ہی حکومت کو آڑ ے ہاتھوں لیا۔ جمعہ کو مہنگائی پر بحث شروع ہوئی تو وزرا کی عدم موجودگی کو اپوزیشن لیڈر وسیم سجاد نے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں بحث کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔ حکومتی وزرا کو عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں۔ سینیٹر عبدالخالق پیرزادہ نے کہا کہ حالات بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو عوام پارلیمنٹ اور حکمرانوں کے محلات پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ حکومت سعودی عرب سے حاصل ہونے والا سستا تیل بھی عوام کو مہنگا فروخت کر کے اربوں روپے کما رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ معاشی استحکام کے بغیر ملک میں امن و امان قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ہارون اختر نے کہا کہ موجودہ حکومت جب برسر اقتدار آئی تو اس کے پاس معاشی دباو سے نکلنے کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہ تھی لہٰذا مہنگائی کا الزام سابقہ حکومت پر ڈالا گیا۔ ایم کیو ایم کے طاہر مشہدی نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں غریب عوام کی فلاح و ترقی پر خرچ کیا جانے والا پیسہ امریکی مفاد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ عبدالرحیم مندوخیل نے کہا کہ حکومت ملک میں ٹیکس کلچر نہ ہونے کا رونا روتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہر شخص ٹیکس ادا کر رہا ہے لیکن اس کے بدلے میں انہیں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ مختلف سینیٹروں کے توجہ دلاو نوٹسز کے جواب میں وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو حنا ربانی کھر نے کہا کہ جون تک بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ حکومت ٹیکسوں کا ہدف حاصل نہیں کر سکے گی جبکہ ترقیاتی بجٹ کم ہو کر 275 ارب کے لگ بھگ رہ جائے گا کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 200 ارب کے اضافی اخراجات آئے ہیں۔ ابھی دہشت گردی کی جنگ میں مزید 90 ارب خرچ ہوں گے جو بجٹ میں شامل نہیں۔ وقفہ سوالات میں وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے ایوان بالا کو یقین دہانی کرائی کہ مختلف اشیا کی درآمد کے لئے گوادر کی بندرگاہ کا استعمال لڑھایا جائے گا۔ رواں مالی سال کے دوران 2 لاکھ 28 ہزار 588 میٹرک ٹن چینی کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کے ذریعے درآمد کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 2008-09ءمیں 3 ارب 2 کروڑ 29 لاکھ ڈالر مالیت کی اشیائے خوردنی برآمد کی گئیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے بتایا کہ ملک میں ایک‘ پانچ‘ دس‘ پچیس اور پچاس پیسے کے سکے گذشتہ دو سالوں سے طلب نہ ہونے کی وجہ سے جاری نہیں کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 100 روپے والے پرانے نوٹ ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حکومت کی پالیسی ہے کہ جب تک کوئی نوٹ چل سکتا ہے اسے چلایا جائے۔ اجلاس میں میاں رضا ربانی نے سابق دور میں برطرف ملازمین کی بحالی اور ادائیگیوں میں تاخیر پر اپنی حکومت اور وزیراعظم کے مشیر لطیف کھوسہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لطیف کھوسہ کے برطرف ملازمین کی بحالی سے متعلق سوال کا جواب نہ دینے پر ضا ربانی نے کہا کہ حکومت غریب ملازمین کے مسئلے پر توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حکومت ہی عوام کے درد کا احساس نہیں کرے گی تو اس سے زیادہ افسوسناک بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ بعدازاں اجلاس پیر کی سہ پہر تک ملتوی کر دیا گیا۔