وزارت پانی و بجلی کے جوائنٹ سیکرٹری طلب‘ لوڈشیڈنگ بنیادی حق کا مسئلہ ہے‘ لمبی تاریخ نہیں دے سکتے : ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال نے قرار دیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ بنیادی حق کا مسئلہ ہے عدالت کیس کی سماعت زیادہ دنوں کےلئے ملتوی نہیں کر سکتی۔ پیر کو جوائنٹ سیکرٹری عدالت میں آکر لوڈشیڈنگ کی وجوہات اور اس کے خاتمے کےلئے کئے گئے اقدامات بتائیں۔گزشتہ روز وزارتِ پانی و بجلی کی طرف سے اشرف خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے انہوں نے کیس کو التواءکرنے کی درخواست کی اور عدالت کو بتایا کہ جوائنٹ سیکرٹری آج کابینہ میں پیش ہوئے ہیں جو بجلی کے بحران کے بارے میں اجلاس جاری ہے اِس لیے اِس کیس کو اگلے ہفتے بدھ کے بعد ملتوی کر دیا جائے۔ درخواست گذار محمد اظہر صدیق نے عدالت کوبتایا کہ جوائنٹ سیکرٹری کی رضا مندی سے یہ تاریخ رکھی گئی تھی اور یہاں بنیادی حقوق کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔شہری رات بھر سو نہیں سکتے۔ فرنس آئل کی خریداری میں کرپشن ہے پانچ سال سے وزارتِ پانی و بجلی نے رپورٹ دبا کر رکھی ہوئی ہے۔ یہ نیب اور ایف آئی اے کا کیس ہے۔ دوسرے صوبوں میں بجلی دی جارہی ہے مگر ہمیں نہیں فراہم کی جارہی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ بنیادی حق کا مسئلہ ہے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ عدالت کو مطمئن کیا جائے کہ کیا وجوہات ہیں کہ بجلی مل نہیں رہی واپڈا کے وکیل محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ تیل میں پانی ملانے کی کوئی رپورٹ موجود ہے انہیں اِس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں، درخواست گذار نے بتایا کہ نہروں پر اوورہیڈ پر بجلی پیدا کرنے کے جنریٹر چلائے جاسکتے ہیں مگر حکومت نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ جوائنٹ سیکرٹری 22اپریل کو عدالت میں پیش ہوں اور بتائیں کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ بجلی کے متبادل انتظامات کے لیے کیا کچھ کیا ہے وہ بھی عدالت کو بتایا جائے اِس کے علاوہ کن کن رہائشی علاقوں کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ کیا ہے وہ عدالت کو بتایا جائے۔ این این آئی کے مطابق عدالت نے بجلی چوروں کیخلاف کی گئی کارروائی اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کرلی۔
ہائیکورٹ