جمہوری سفر میں میڈیا کا کردار اہم، بلاخوف و خطر رپورٹنگ کی آزادی ہونی چاہئے، وزیر اطلاعات

اسلام آباد (آئی این پی) نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عارف نظامی نے کہا ہے کہ جمہوری انداز میں انتخابات کیلئے میڈیا کے رہنما اصولوں کا ہونا اور ان پر عمل درآمد ضروری ہے، تمام صحافیوں اور میڈیا کو بلا خوف و خطر، تحفظ کے خدشات کے بغیر رپورٹنگ کی آزادی ہونی چاہیے، جمہوریت کے سفر میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ کسی مداخلت کے بغیر اسے کردار ادا کرنے کا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے۔ وہ میڈیا اور میڈیا کی معاونت کرنے والے اداروں کی جانب سے منعقدہ "میڈیا ضابطہ اخلاق برائے انتخابات “2013 کے موضوع پر منعقدہ فورم سے خطاب کر رہے تھے ۔ فورم کے دوران انتخابی مہم کے حتمی مراحل میں داخل ہوتے ہی میڈیا نے انتخابی کوریج کو غیر جانبدار ، محفوظ، پیشہ وارانہ اور تمام پارٹیوں کی طرف منصفانہ بنانے کے عزم اور میڈیا اداروں کے اہم نمائندوں نے میڈیا کے ضابطہ اخلاق پر اتفاق کیا جس کے تحت انتخابات کی منصفانہ رپورٹنگ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایسا مواد چھاپنے یا نشر کرنے سے گریز کا اعادہ کیا گیا جس سے نفرت یا تشدد کو تقویت ملنے کا اندیشہ ہو۔اس سے قبل یورپی یونین کے الیکشن آبزرویشن مشن کی میڈیا کیلئے مبصر انتا لاسے نے اپنے مشن کی جانب سے میڈیا کی مانیٹرنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا۔عارف نظامی نے کہا کہ وہ ماہرین پر مشتمل ٹیم کی مدد سے میڈیا کے منتخب اداروں میں انتخابی کوریج کو مانیٹر کررہے ہیں۔ وہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ تمام پارٹیوں کو کس حد تک میڈیا میں منصفانہ جگہ اور وقت دیا گیا۔وہ اس بات کی بھی نشاندہی کریں گے کہ کوئی نفرت آمیز بات تو نہیں کہی جا رہی اور رپورٹنگ کا انداز کس حد تک منفی، مثبت یا غیر جانبدار ہے۔ انتخابات کیلئے میڈیا کا ضابطہ اخلاق الیکشن کمیشن اور میڈیا کے مختلف اداروں کے درمیان مسلسل مشاورت کے نتیجے میں تشکیل پایا ہے۔ جو ادارے الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورت میں شامل تھے ان میں ساﺅتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن سیفما، پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے)، آل پاکستان نیوزپیپر سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، پریس کونسل آف پاکستان، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، نیشنل پریس کلب، (این پی سی)، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) اور پاکستان ٹیلی ویژن شامل ہیں۔ فورم میں اس بات پر بحث و مباحثہ کیا گیا کہ میڈیا کی جانب سے اس ضابطہ اخلاق کے احترام کو کیسے یقینی بنایا جا سکے۔ ایتھیکل جرنلزم نیٹ ورک کے ڈائریکٹر ایڈن وائٹ نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی کامیابی کا دارو مدارصحافیوں کی جانب سے اپنی کارکردگی کی خود مانیٹرنگ کر نا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مانیٹرنگ صحافت کے معیار کو پروان چڑھانے ، غلطیوں کو درست کرنے اور صحافتی آزادی کو مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔الیکشن کمشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل برائے تعلقات عامہ راجہ محمد افتخار نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے یہ ضابطہ اخلاق تیا ر کرنے کیلئے میڈیا کے ساتھ موثر انداز میں مشاورت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کی مانٹیرنگ صحافتی آزادی کو ٹھیس نہیں پہنچائے گی لیکن تبدیل ہوتی صورت حال میں یہ صحافتی آزادی کو مزید مستحکم کرے گی۔ مباحثے کے شرکاء میں اے پی این ایس کے صدر سرمد علی ، سی پی این ای کے صدر جمیل اطہر بھی شامل تھے جنہوں نے کہا کہ وہ اپنے اداروں میں ضابطہ اخلاق کی کاپیاں تقسیم کر رہے ہیں اس کے بارے میں تربیتی سیشن منعقد کر رہے ہیں۔ فورم میں ان نکات پر اتفاق کیا گیاکہ میڈیا کے اداروں کے اندر انتخابات کی کوریج سے منسلک صحافیوں اور مینجروں میں ضابطہ اخلاق کی تشہیر کی جائے گی اور ضابطہ اخلاق کی وسیع تر عوامی تشہیر کیلئے اس کو شائع کر کے متعلقہ حلقوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ میڈیا کی مانیٹرنگ کا عمل انتخابات کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے۔انتخابات کے بعد میڈیا کو مدعو کر کے ضابطہ اخلاق کے موئثر ہونے کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کے انتخابات میں اس عمل کو مزید موئثر بنانے کی حکمت عملی بنائی جائے گی اورفورم کا انعقاد مختلف میڈیا کے اداروں کی جانب سے کیا گیا تھا جن کی معاونت ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل اور کولیشن فار ایتھیکل جرنلزم کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔
وزیر اطلاعات