کراچی : ٹارگٹ کلنگ جاری‘ ایف سی اور پولیس کے چار اہلکاروں سمیت سولہ جاں بحق

کراچی (کرائم رپورٹر + وقت نیوز) کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جاری رہی، جمعرات کو فائرنگ کے واقعات میں ایف سی اور پولیس کے چار اہلکاروں اور سیاسی کارکنوں سمیت 16 افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ فائرنگ سے تین افراد زخمی بھی ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق پیر آباد میں موٹر سائیکل سوار افراد نے ہوٹل پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایف سی اہلکار عبدالمالک کے سر میں ایک اور سینے میں دو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہ گیر نذر گل زخمی ہوا اور بعد میں اس نے بھی دم توڑ دیا۔ ادھر اورنگی ٹاﺅن میں موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے پیپلز پارٹی کے دو کارکنوں ذیشان اور یوسف پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ذیشان موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ یوسف نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ ان کی ہلاکت کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی اور دکانیں بازار وغیرہ بند ہو گئے۔ ا س کے علاوہ گلشن معمار میں بنگالی موڑ پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان نے موٹر سائیکل پر گشت کرنے والے دو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ہیڈ کانسٹیبل علی حسن اور کانسٹیبل 40 سالہ اکمل ہلاک ہو گئے۔ رضویہ کے علاقے گلبہار میں بھی مسلح موٹر سائیکل سواروں نے کار نمبر اے ایم بی 815 پر فائرنگ کر کے سی آئی ڈی پولیس کے اہلکار محمد ارشد کو ہلاک کر دیا اور فرار ہو گئے۔ قبل ازیں فشری میں مسلح افراد نے دو ستوں کے ساتھ تاش کھیلنے والے عبدالکریم کو شناخت کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور فرار ہو گئے۔ سرجانی ٹاﺅن کے سیکٹر سیون اے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان ادریس ہلاک ہو گیا۔ شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں انوارالحق کی لاش ملی ہے جسے تشدد اور فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ منگھوپیر میں بھی ایک شخص کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جب کہ مبینہ ٹاﺅن کے علاقے میں مسلح افراد نے ایک کار پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کار میں سوار اے این پی کا کارکن شیر خان شدید زخمی ہوا اور بعد میں اس نے اسپتال میں دم توڑ دیا ۔ دریں اثناءاورنگی ٹاﺅن میں ایک نوجوان 16 سالہ شعیب ولد سعید نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ مزید برآں کھارا در کے علاقے کاغذی بازار میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخض ہلاک جب کہ چار افراد زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں کراچی میں سکیورٹی خدشات پر ریڈ الرٹ کر دیا گیا۔ آئی جی سندھ نے حکم دیا ہے کہ تمام علاقوں میں سنیپ چیکنگ کی جائے۔ خصوصی رپورٹر کے مطابق کراچی میں اہلسنت کی ٹارگٹ کلنگ پر حکومت اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی المیہ ہے۔ اہلسنت کپ پے در پے ٹارگٹ کلنگ، قاتلوں کی عدم گرفتاری اور جیل میں اہلسنت قیدیوں پر ریاستی جبر و تشدد کے خلاف اہلسنت والجماعت آج سندھ بھر میں یوم احتجاج منائے گی۔ اندرون سندھ سمیت تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار اہلسنت والجماعت کے مرکزی رہنما علامہ اورنگزیب فاروقی نے مرکز اہلسنت سے جاری اعلامیہ میں کیا۔ علاوہ ازیں ایک رپورٹ کے مطابق شہر قائد میں موجودہ دور حکومت میں تقریباً 7000 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، صرف رواں سال 17 اکتوبر تک 1800 افراد کو نامعلوم گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔