پنجاب میں میدان لگنے والا ہے، مسلم لیگ ن کو ٹف ٹائم دینگے: منظور وٹو


اسلام آباد (آئی این پی) پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر وفاقی وزیر میاں منظور احمد وٹو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو ضمنی انتخابات سمیت ہر سطح پر ٹف ٹائم دیں گے، پارٹی قیادت نے مجھ پر جو اعتماد کیا اس پر ہر صورت پورا اتروں گا اور آئندہ انتخابات میں کامیابی اور پنجاب میں حکومت بنانا ٹارگٹ ہے جسے ہر صورت حاصل کر لیا جائے گا، پارٹی کو وسطی پنجاب میں مزید مضبوط بنانے کیلئے ورکرز کنونشن اور رابطہ مہم شروع کریں گے۔ اپنے ایک انٹرویو میں میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست دھوکہ دہی اور منافقت کی سیاست ہے جس کی وجہ سے پنجاب کے عوام ان سے بیزار ہو چکے ہیں آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی پنجاب میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے ہر صورت حکومت بنائے گی۔آئندہ انتخابات ق لیگ کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ پنجاب میں پارٹی کو مزید مضبوط کیا جائے گا اس کیلئے ارکان پارلیمنٹ اور عہدیداروں سے مل کر عوام رابطہ مہم اور ورکر کنونشنز کا انعقاد کیا جائے گا۔ آصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہوئی ہے اور حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے جا رہی ہے آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔ دریں اثناءاسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منظور احمد وٹو نے کہا کہ پی پی پی عوامی اور وفاقی جبکہ مسلم لیگ (ن) خاندانی اور علاقائی پارٹی ہے۔ زرداری نے پارٹی کارکنوں اور قائدین کو عزت دی نواز شریف اور شہباز شریف کے روئیے سے تنگ مسلم لیگ ن کے ایم پیز اور ایم این ایز رو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کارکنوں اور سرکاری ملازمین کو ذاتی ملازم سمجھنے اور ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔ نوازشریف سندھ اور بلوچستان میں قوم پرستوں کو ساتھ ملا رہے ہیں جو پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کرتے‘ شہباز شریف پی پی پی قیادت کے خلاف ذاتی حملے کرنا چھوڑ دیں۔ نواز شریف نے وزارت اعلیٰ سے وزارت عظمیٰ تک سب عہدے خاندان میں بانٹے زرداری نے گیلانی کو خاندان سے نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم اور مجھے پنجاب کا صدر بنایا۔ اس موقع پر پنجاب کے سابق صدر امتیاز صفدر وڑائچ اور پی پی پی پنجاب کے جنرل سیکرٹری تنویر اشرف کائرہ نے بھی اظہار خیال کیا۔ پارٹی رہنما چوہدری منظور اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم میں جب بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو انہوں نے دکھی اور زخمی دل کے ساتھ الیکشن کے بعد پی پی پی جوائن کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اپنا تجربہ پارٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جسے قبول کرتے ہوئے صدر زرداری نے بھاری ذمہ داری کندھے پر ڈال دی ہے۔ ق لیگ ہماری اہم اتحادی ہے پرویز الٰہی کے ساتھ مل کر اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ زرداری کی کامیاب مفاہمتی سیاست کی نشانی اے این پی ، ایم کیوایم (ق) لیگ مفتی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اتحاد اور ان کے تعاون سے ظاہر ہوتی ہے جبکہ نواز شریف میں کسی پارٹی یا فرد کو ساتھ لے کر چلنے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ آج ملک کی کوئی پارٹی ان کے ساتھ چلنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کریں گے۔ پنجاب میں میدان لگنے والا ہے جس کی مکمل تیاری کریں گے۔ میدان کسی کیلئے کھلا نہیں چھوڑیں گے۔اتحادیوں کے ساتھ ملکر پنجاب میں پی پی پی کی آئندہ حکومت قائم کریں گے۔ میرے دور میں کسی افسر نے میری حکم عدولی نہیں کی جبکہ شہباز شریف کے فیصلے ہوا میں اڑائے جاتے ہیں۔ ہم تمام وسائل لاہور کی ایک سڑک پر نہیں پورے پنجاب میں یکساں استعمال کرینگے۔