پنجاب حکومت کیساتھ ڈیڈ لاک برقرار، ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال جاری


لاہور (ندیم بسرا) حکومت پنجاب اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان مذاکرات کے 20 دور ہونے کے بعد بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز اعلی عدلیہ کے احکامات کی پروا نہ کرتے ہوئے پنجاب بھر میں احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت پنجاب کی قائم کردہ کمیٹیاں معاملات کو حل کرنے کی بجائے لٹکا رہی ہیں جس سے شہریوں کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس حوالے سے ذمہ دار حلقوں کا کہنا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز اب تک 9 بار ہڑتالیں کر چکے ہیں جس کے باعث سینکڑوں قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے۔ پی ایم اے، ایم ٹی اے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن حکومت سے سروس سٹرکچر اور دیگر کی مد میں 45 مطالبات منوانا چاہتی ہے، حکومت اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان 6 مطالبات پر اتفاق رائے ہوچکا ہے مگر محکمہ صحت پنجاب نے ابھی تک اس پر نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور انہوں نے صوبے بھر میں ہڑتال کا نیا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت 15 اکتوبر کو چلڈرن ہسپتال کے باہر، 16 اکتوبر کو رحیم یار خان میں 17 اکتوبر کو پی آئی سی میں اور 18 اکتوبر کو بہاولپور میں احتجاج کیا گیا۔20 اکتوبر کو میو ہسپتال اور ملتان، 22 اکتوبر کو فیصل آباد، 23 اکتوبر کو راولپنڈی، 24 اکتوبر کو جناح ہسپتال، یکم نومبر کو سروسز ہسپتال، سر گنگا رام، 3 نومبر کو گوجرانوالہ، گجرات اور 5 نومبر کو لاہور میں جنرل ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات بلاتعطل فراہم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ حکومت ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ معاملات جلد از جلد طے کرے۔