ملالہ پر حملے کو سازش قرار دینا غلط ہے‘ معاملے کو اچھالنے کی ضرورت نہیں : ترجمان دفتر خارجہ


اسلام آباد (نوائے وقت نیوز +نیشن رپورٹ+ ایجنسیاں) ترجمان دفتر خارجہ معظم علی خان نے کہا ہے حنا ربانی کھر اور بلاول بھٹو زرداری پر بنگلہ دیشی رسالے کی اشاعت بیمار سوچ کی عکاس ہے۔ یہ معاملہ تو تبصرے کے بھی قابل نہیں۔ سوئس حکام کو لکھے گئے خط کا مجھے علم نہیں۔ روس اور پاکستان افغانستان میں قیام امن کے خواہاں ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا ملالہ یوسف زئی پر حملے کے واقعہ کو اچھالنے کی ضرورت نہیں۔ باکو میں صدر زرداری اور افغان صدر کرزئی کے درمیان ملاقات نہیں ہوئی۔ نیشنل رپورٹ کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان افغانستان کے لئے امریکی نمائندے گراسمین شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حوالے سے بات چیت کرنے نہیں آ رہے۔ آئی این پی کے مطابق دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے مختلف ایشوز پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔ امریکی نمائندہ مارک گراسمین کے دورہ پاکستان کے بارے میں سوال کے جواب پر ترجمان معظم احمد خان نے کہا امریکی نمائندے مارک گراسمین کا دورہ پاکستان جلد متوقع ہے تاہم یہ نہیں بتا سکتے وہ کب دورہ کریں گے‘ ان کے دورے کے موقع پر پاکستان امریکہ تعلقات سمیت دیگر اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ان کے ہمراہ نائب امریکی وزیر دفاع بھی پاکستان آئیں گے۔ انہوں نے کہا چین میں تاحال سفیر کی تقرری نہیں ہوئی۔ سفیر کی نامزدگی کے لئے ایک پورا طریقہ کار ہے انتظامی طور پر اس حوالے سے فی الحال کچھ نہیں بتا سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ ملالہ پر حملہ غلط عمل تھا اور اسے سازش قرار دینا درست نہیں۔