کرزئی نے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے عناصر کیخلاف اقدامات کی یقین دہانی کرادی : رحمن ملک

کابل/ اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ ایجنسیاں) وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے صدر زرداری کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے افغانستان کا دورہ کیا اور افغان صدر حامد کرزئی اور اپنے ہم منصب محمد حنیف اتمار اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اپنے افغان ہم منصب کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب اور نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہا کہ حامد کرزئی نے پاکستان میں کارروائیاں کرنے والے عناصر کیخلاف اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ افغانستان سے پاکستان کے شدت پسند عناصر کو منتقل ہونے والے اسلحہ کی روک تھام بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سوات آپرپشن کے دوران گرفتار ہونے والے 90فیصد شدت پسندوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔ انہوں نے کہا میں نے بلوچستان کی صورتحال اور پاکستان سے آزادی کے نعرے لگانے والے براہمداغ بگٹی کے معاملے پر بھی بات کی۔ رحمن ملک نے کرزئی کو صدر زرداری کا پیغام بھی پہنچایا۔ انہوں نے کہاکہ افغان قیادت نے پاکستان‘ افغان سرحد کے انٹری پوائنٹس پر بائیومیٹرک سسٹم کی تنصیب پر اتفاق کیا ہے، یہ سسٹم اگست کے پہلے ہفتے میں لگا دیا جائیگا۔ ملاقاتوں میں دونوں طرف کے ایک دوسرے کے ملکوں میں پناہ لینے والے مطلوب ملزموں کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی اور اس حوالے سے فہرستوں اور دہشت گردی سے متعلق معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان قیادت کیساتھ سلامتی کے معاملے پر تعاون میں اضافے کیلئے فوکل پرسنز کی تعیناتی کا فیصلہ بھی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا حامد کرزئی نے خندہ پیشانی سے ہمارے تحفظات سنے۔ انہوں نے کہا افغان قیادت نے منشیات کی سمگلنگ روکنے کیلئے مئوثر اقدامات کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت سے ہونیوالی بات چیت انتہائی مفید رہی۔ جس میں افغان حکومت کو براہمداغ بگٹی کے علاوہ سوات اور فاٹا سے گرفتار افغان دہشتگردوں کی گرفتاری کے حوالے سے آگاہ کیا اور افغان حکومت نے براہمداغ بگٹی کے حوالے سے تعاون کا یقین دلایا ہے۔