پانی روکنے پر بھارت کیخلاف عالمی عدالت انصاف جانے کا فیصلہ کرلیا : وفاقی وزیر محنت

لاہور (نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم اگر بنانا ہے تو صوبوں کی باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی بنانا پڑے گا۔ ملک میں 35 ڈیمز بنانے پر کسی صوبے کو اعتراض نہیں ہے کم از کم ان کو شروع کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے دریائوں کا پانی بند کرنے کی وجہ سے زراعت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ اس لئے حکومت نے نقصان کے ازالے کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے کر جائیں گے جس کیلئے سینئر ترین وکلا پر مشتمل پینل تشکیل دے دیا گیا ہے۔ حکومت دسمبر 2009ء تک ملک سے لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کی مکمل کوشش کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان انجینئرنگ کانگریس کے زیر اہتمام ملک میں بجلی کے بحران کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پرصدر پاکستان انجیئرنگ کانگریس انجینئر حسنین احمد، سیکرٹری غلام حسین، رانا خورشید انور سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ دریائے چناب اور جہلم کے بارے میں خورشید احمد شاہ نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے پانیوں کو روکنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ہم بھار ت کو پاکستان کا پانی بند نہیں کرنے دینگے، ان پانیوں پر 17 کروڑ پاکستانیوں کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے بجلی کے نظام میں دسمبر تک 3 ہزار میگاواٹ شامل ہو جائیں گے جس سے لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے میں یقینی پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر تھر کول سے بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے اور ہماری 2 ہزار سال تک کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ تھر کول پر دو کمپنیوں نے کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج IPP`s` کو لوگ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اس وقت بینظیر بھٹو اس کو متعارف نہ کرواتی تو آج ملک کا کیا بنتا۔ ڈکٹیٹروں نے قوم کی قسمت خراب کر دی۔ ایک پاکستانی قوم کو ہزاروں پاکستانی قوموں میں تبدیل کر دیا گیا۔ اب ملک میں جو تھوڑی بہت تبدیلی آئی ہے وہ جمہوری حکومت کی مرہون منت ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ سابق صدر جنرل مشرف کے ٹرائیل کا فیصلہ جماعت کی سطح پر کیا جائے گا۔ فی الحال پیپلز پارٹی پرانی لڑائیوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کر ے گی۔ میاں نواز شریف اور ان کی جماعت کو دوبار وزارتیں ملنے کے حوالے سے کچھ نہیں کہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے پر بات چیت ہو رہی ہے قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جن سابق ملازمین کو بحال کیا گیا ہے ان ملازمین کو ترقیاں اور مراعات بھی دی جائیں گی۔