چیئرمین نیب کی تقرری چیلنج کریں گے:نثار‘ بھارت سے بجلی خریدنے کا ارادہ ہے: نوید قمر

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + خبرنگار خصوصی + لیڈی رپورٹر + وقت نیوز) قومی اسمبلی مےں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ آئندہ چند روز مےں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے چیئرمین نیب کی تقرری کو سپریم کورٹ مےں باضابطہ طور پر چیلنج کر دیا جائے گا، تقرری کے معاملے پر آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی آصف علی زرداری خود این آر او زدہ ہےں وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ چیئرمین نیب کے عہدے پر ایسا شخص تعینات کیا جائے جو ان کے کارناموں سے پردہ اٹھائے۔ زرداری صاحب خود نیب کے سب سے بڑے مجرم ہےں انہوں نے سارے عمل کو تماشہ بنا دیا۔ حکومت آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ پر عملدرآمد کےلئے کمیٹی تشکیل دینے سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز قومی اسمبلی سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قومی اسمبلی سے خطاب مےں وزیراعظم نے کہا کہ اے پی سی کی قرارداد پر عملدرآمد کےلئے کمیٹی کی تشکیل کےلئے سپیکر کو خط لکھا ہے سپیکر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ناموں کا اعلان کرینگی‘ وزیر پانی و بجلی سید نوید قمر نے ایوان کو بتایا کہ بھارت سے بجلی درآمد کرنے کےلئے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے تاکہ بھارت سے بجلی درآمد کی جائے۔ بھارت بجلی کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ہم اسے خریدنے کا ارادہ رکھتے ہےں چین کی طرف سے پاکستان کو سستی بجلی کی فراہمی کے حوالے سے کوئی تجویز نہیں ہے کیونکہ چین سے بجلی کی ٹرانسمیشن انتہائی مشکل کام ہے۔ قومی اسمبلی نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے ترمیمی بل 2011ءکی متفقہ طور پر منظوری دےدی‘ مسلم لیگ (ن) نے ایم کیو ایم کو اپوزیشن بنچوں سے اٹھانے کا مطالبہ کر دیا۔ وفاقی وزیر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ارکان کو چٹائیوں پر نہیں بٹھایا جا سکتا جس کے بعد ایم کیو ایم کے ارکان کو حکومتی سائیڈ پر آخری بنچوں پر بٹھا دیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری مےں قانونی سطح پر عمل نہیں کیا گیا، اس پوسٹ کے لئے کم سے کم تین لوگوں کے نام ہونے چاہئے تھے اور اس کے بعد ان کو میرٹ کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا۔ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کو توہین عدالت سمجھتا ہوں، علاوہ ازیں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ و تعمیرات کے اجلاس مےں وفاقی وزیر مخدوم سید فیصل صالح حیات کی طرف سے میڈیا کےخلاف ہتک آمیز ریمارکس دینے پر پیر کو صحافیوں نے قومی اسمبلی پریس گیلری سے واک آﺅٹ کیا جس پر وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے ایوان مےں معذرت کی۔ اے پی پی کے مطابق پیپلز پارٹی کے رکن سید ظفر علی شاہ نے ایوان مےں قانون سازی سے قبل بل کی کاپیاں فراہم نہ کرنے اور نمل یونیورسٹی کے سربراہ فوجی ہونے کےخلاف ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔ آئی این پی کے مطابق اپوزیشن کے ساتھ حکومتی ارکان بھی حکومت پر برس پڑے اور حکومتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔