چیئرمین نیب کا تقرر‘ قائد ایوان‘ اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ضروری ہے: وکلا

لاہور (ثقلین جاوید، وقائع نگار خصوصی) چیئرمین نیب کے تقرر کا طریقہ کار قومی احتساب کے سیکشن 6 میں طے کیا گیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ قومی احتساب کے سیکشن 6 کے B(1) کے تحت صدر چیئرمین کا تقرر کرتا ہے مگر لیڈر آف دی ہاوس اور اپوزیشن لیڈر سے مشاورت ضروری ہے جس کے بعد 4 سال کے لئے چیئرمین نیب کا تقرر کیا جائے گا اگر چیئرمین نیب کو اس کے عہدے سے ہٹانا ہو تو اس کے لئے آئین پاکستان کے آرٹیکل 209 کے تحت وہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا جو سپریم کورٹ کے ایک جج کو سروس سے ہٹانے کے لئے کیا جاتا ہے جبکہ سپریم کورٹ بھی اس سے پہلے چیئرمین نیب دیدار شاہ کیس میں چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار واضح کر چکی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی طرف سے ایڈمرل (ر) فصیح الدین کا بطور چیئرمین نیب کے تقرر پر پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین لہراسب خان گوندل نے کہا کہ وکلا نے جسٹس خلیل الرحمن رمدے کو بھی کنٹریکٹ دینے کی مخالفت کی تھی چنانچہ اب کسی ریٹائرڈ شخص کو ایسا کنٹریکٹ نہیں دینا چاہئے۔ سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری قمر الزمان قریشی نے کہا کہ حتمی فیصلہ تو صدر کو ہی کرنا ہوتا ہے اور حکومت کرنے کا حق اپوزیشن کو نہیں دیا جا سکتا چنانچہ معاملات کو چلانے کے لئے صدر کو ایسے فیصلے کرنا ہی ہوتے ہیں اور مشاورت کا فرض صدر ادا کر چکے ہیں۔ اپوزیشن کو بھی اس پر دل بڑا کرنا چاہئے۔ چیئرمین جوڈیشل ایکٹوازم پینل محمد اظہر صدیق نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو چاہئے کہ وہ انہیں تین ماہ کی مہلت دیں اور پھر کارکردگی کے حوالے سے جواب طلب کریں۔