قائد ملتؒ کے مکے نے ایٹم بم کا کردار ادا کیا: ڈاکٹر رفیق احمد‘ اللہ ہمیں ان جیسے سیاستدان دے: مجید نظامی

لاہور (خصوصی رپورٹر) میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں شہید ملتؒ جیسے اوصاف کے مالک سیاسی رہنما عطا فرما دے تاکہ ہمارا ملک صحیح معنوں میں ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری مملکت بن جائے۔ لیاقت علی خانؒ نے نظریہ پاکستان کو حرز جاں بنا رکھا تھا۔ قرارداد مقاصد کی منظوری ان کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان ‘ لاہور میں تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما‘ آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری اور پاکستان کے پہلے وزیرا عظم قائد ملتؒ خان لیاقت علی خان شہید کی 60ویں برسی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست سے اپنے پیغا م میں کیا ۔اس نشست کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ نشست کی صدارت تحریک پاکستان کے کارکن اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی جبکہ قائد ملتؒ کے بھتیجے فرہاد علی خان بطور مہمان خاص شریک ہوئے۔ اس موقع پر بریگیڈیئر(ر) حامد سعید اختر‘ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی‘ ادیب جاودانی‘ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان‘ کرنل(ر) اکرام اللہ خان ‘ پروفیسر غلام سرور رانا‘ عزیز ظفر آزاد‘ ڈاکٹر یعقوب ضیائ‘ تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سیکرٹری رفاقت ریاض‘ اساتذہ کرام اور طلبا و طالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک ‘ نعت رسول مقبول اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری امجد علی نے حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہِ نبویﷺ میں ہدیہ عقیدت پیش کیا ۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دئیے۔ مجید نظامی نے اپنے پیغام میں کہا نوابزادہ لیاقت علی خانؒکا شمار قائداعظمؒ کے بے لوث ساتھیوں اور تحریک پاکستان کے انتہائی ممتاز رہنماﺅں میں ہوتا ہے۔ آپ بے شک قائد اعظمؒ کے دست راست تھے اور آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کو برصغیر کے کونے کونے میں منظم کرنے میں کلیدی کرداراداکیا۔ لیاقت علی خانؒ نے نظریہ پاکستان کو حرز جاں بنا رکھا تھا اور وہ ارض پاک میں اسلامی اقدار کے فروغ کیلئے کوشاں رہتے تھے۔ قرارداد مقاصد کی منظوری ان کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی بدولت ان کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا۔ لیاقت علی خانؒ صاف و شفاف کردار کے مالک تھے اور انہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان کیلئے وقف کر رکھا تھا۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں شہید ملتؒ جیسے اوصاف کے مالک سیاسی رہنما عطا فرما دے تاکہ ہمارا ملک صحیح معنوں میں ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری مملکت بن جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا قائد ملتؒ لیاقت علی خان تحریک پاکستان کے عظیم رہنما تھے۔ قائداعظمؒ کو لندن سے واپس بلوا کر مسلم لیگ کی قیادت پر آمادہ کرنے میں لیاقت علی خانؒ کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ قائدملتؒ برس ہا برس تک مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری رہے اور انہوں نے اس حیثیت میں اس جماعت کی ترقی و کامیابی کےلئے بے حد کام کیا۔ وہ قائداعظمؒ کے بڑے بااعتماد ساتھی تھے اور قائداعظمؒ انہیں اپنا دست راست سمجھتے تھے۔ لیاقت علی خانؒ درویش صفت انسان تھے اور ان کی زندگی ہر قسم کے سکینڈل سے پاک تھی۔ جب آپ شہید ہوئے تو بعد میں پتا چلا ان کی جرابیں اور بنیان پھٹی ہوئی ہیں۔ نوجوان نسل کو معلوم ہونا چاہیے اعلیٰ کردار و صفات کے حامل لوگوں کے خلوص کی وجہ سے ہی یہ ملک قائم ہوا۔ لیاقت علی خان ؒ نئی نسل کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قائد ملتؒ 1945-46ءکے انتخابات کے نتیجہ میں قائم ہونیوالی عبوری حکومت میں وزیر خزانہ بنے اور ہندوستان کی تاریخ میں ایک غریب پرور بجٹ تیار کیا جس میں امراءپر ٹیکس اور غریبوں کو سہولیات فراہم کی گئیں۔ قائد ملتؒ چاہتے تھے ترقی اس انداز میں ہونی چاہئے امیروں سے وسائل لے کر غریبوں میں تقسیم کئے جائیں۔ ان کی حکومت نے غریب کسانوں کو سبسڈی دی تاکہ وہ زیادہ پیداوار اُگا سکیں۔ لیاقت علی خانؒ نے اپنے بجٹ کا آغاز ایک قرآنی آیت سے کیا تھا۔ قائد ملتؒ نے حکومت کے غیر ضروری اخراجات پر پابندی عائد کر دی جس نے حکومتی آمدنی میں اضافہ کیا۔اس بجٹ میں کل آمدن 280کروڑ اور اخراجات328کروڑ تھے انہوں نے اس خسارے کو کم کرنے کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے۔ لیاقت علی خانؒ کے” مُکے “نے بھارت کے خلاف ایک ایٹم بم کا کردار ادا کیا تھا۔ قائد ملتؒ نے قرارداد مقاصد منظور کروا کے آئین کے لیے بنیاد فراہم کی یہ ان کا ایک بڑا اہم کارنامہ ہے۔ یہ قرارداد تمام مکاتب فکر کے علماءنے متفقہ طور پر منظور کی تھی۔ قائد ملتؒ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے تھے۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ تمام مشاہیر تحریکِ آزادی کی یاد میں سارا سال پروگرام منعقد کرا کر نئی نسلوں کو ان کے عظیم کارناموں سے آگہی فراہم کرتا ہے۔ قائد ملتؒ کے بھتیجے فرہاد علی خان نے کہا لیاقت علی خانؒ پاکستان کے لیے زندہ رہے اور انہوں نے اپنی جان بھی پاکستان کے لیے قربان کی۔ شہید ملتؒ نے قیام پاکستان کیلئے بھرپور کاوشیں کیں ۔آپ نے قائداعظمؒ کا بھرپور ساتھ دیااور قائداعظمؒ آپ کو اپنا دست راست قراردیتے تھے۔آپ ایک پر عزم انسان تھے اور آپ کو تعلیم سے دلی لگاﺅ تھا۔ نوجوان نسل اس ملک کا مستقبل ہیں اور انہوں نے ہی کل ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے لہذا یہ نسل مشاہیر تحریک پاکستان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے سیاستدانوں کو یہ توفیق دے کہ وہ قائد ملتؒ لیاقت علی خانؒ کے نقشِ قدم پر چل سکیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی نے کہا قائد ملتؒ جب تقریر کرتے تھے تو عوام میں جوش و جذبہ پیدا ہو جاتا تھا۔ ایک بار بھارت کے خلاف تقریر کرتے ہوئے قائد ملتؒ نے کہا بھارت نے پاکستان کے خلاف میلی نظر سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔ قائد ملتؒ کو شہید کرنے کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا اور انہیں ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے کہا کہ 1946ءکے انتخابات کے بعد جب حکومت کی تشکیل ہوئی تو نوابزادہ لیاقت علی خانؒ کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ آپ نے پہلا بجٹ ہی غریب پرور بنایا۔ اس بجٹ نے ہندوﺅں اور کانگریسیوں کو اس قدر برافروختہ کیا کہ سردار و لبھ بھائی پٹیل کو بالآخر یہ کہنا پڑا ہم مسلمانوں کے ساتھ نہیں رہ سکتے لہٰذا بہتر یہی ہے مسلمانوں کو ایک علیحدہ مملکت دے دو۔ قیام پاکستان کے بعد لیاقت علی خانؒ کا ایک اہم کارنامہ قرارداد مقاصد کی منظوری تھا۔ جب دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنی کرنسی کی قیمت کم کر دی تو لیاقت علی خان ؒنے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ بھارت نے پاکستان کو کوئلہ دینا بند کیا تو پاکستان نے بھارت کو کپاس کی برآمد پر پابندی عائد کر دی جس پر بھارت نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ لیاقت علی خانؒ کے کارنامے ہمیشہ تابندہ رہیں گے۔ قائد ملتؒ ملک کے وزیراعظم تھے لیکن جب شہید ہوئے تو ان کے بنک اکاﺅنٹ میں چند سو روپے موجود تھے۔قبل ازیں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے شرکاءکا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا ضروری ہے نوجوان نسل کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کیسے شفاف اور اعلیٰ کردار کے حامل لوگوں نے پاکستان بنایا۔ انہوں نے کہا زعمائے تحریک آزادی پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے کے خواہاں تھے ۔آج ہم ان مشاہیر کی تعلیمات کو اپنا کرہی پاکستان کو ترقی کی منازل پر لے جاسکتے ہیں۔ نشست میں قائدِ ملتؒ خان لیاقت علی خان شہید کی بلندی درجات کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ نشست کا اختتام پاکستان‘ قائداعظمؒ ‘علامہ محمد اقبالؒ‘ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ اور شہید ملت خان لیاقت علی خانؒ زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔