سپریم کورٹ : ایل پی جی پالیسی کیخلاف ہائیکورٹ کا حکم امتناعی خارج کرنے کی حکومتی اپیل مسترد

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + وقت نیوز) سپریم کورٹ نے نئی ایل پی جی پالیسی کےخلاف حکم امتناعی خارج کرنے کی حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے ریمارکس مےں کہا ہے کہ نئی پالیسی کےخلاف عوام مےں تحفظات پائے جاتے ہےں جبکہ میڈیا کے مطابق پالیسی ایک شخص کو نوازنے کےلئے بنائی گئی ہے گیس کی قیمتوں مےں اضافہ کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑے گا۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے حال ہی مےں جاری کردہ نئی ایل پی جی پالیسی کےخلاف دو کمپنیوں نے لاہور ہائیکورٹ مےں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس پالیسی کے تحت صرف 20فیصد گیس درآمد کرنے کی اجازت ہے، پالیسی کو کالعدم قرار دیا اور فیصلہ تک حکم امتناعی جاری کیا جائے جس پر ہائیکورٹ نے آئندہ تاریخ سماعت تک حکم امتناعی جاری کر دیا جس کےخلاف وفاق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں چیف جسٹس کی سربراہی مےں تین رکنی بنچ نے گذشتہ روز حکومتی اپیل کی سماعت کی۔ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا نے پیش ہو کر موقف اپنایا کہ سردیوں مےں گیس کی قلت پیدا ہو جائے گی اسے دور کرنے کےلئے گیس درآمد کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ ہائیکورٹ کا حکم امتناعی ختم نہ ہوا تو گھروں مےں جلانے کو گیس نہیں ہوگی۔ تاہم سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ حکم امتناعی فیصلے تک نہیں بلکہ صرف آئندہ تاریخ سماعت تک ہے ہم مداخلت نہیں کر سکتے۔