بھارت کو پسندیدہ ملک نہیں بننے دیں گے‘ حکمران دہشت گردی کی نام نہاد جنگ سے الگ ہوں: منورحسن

لاہور (اپنے نمائندے سے + ثناءنیوز) جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ زرداری‘ گیلانی اور کیانی حب الوطنی کا خون کر رہے ہیں قوم کو بھارت کے راستے پر چلانا چاہتے ہیں حکمرانوں کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر قوم غمگین ہے اور اسکی بھرپور مذمت کر رہی ہے بھارت کو پسندیدہ ملک نہیں بننے دیں گے‘ ہمیں امریکی اور بھارتی غلامی اور اسکی بالادستی ہرگز قبول نہیں ہم اسے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ حکمران دہشتگردی کیخلاف نام نہاد جنگ سے الگ ہوں‘ امریکہ سازش کے تحت بھارت کو خطے میں سپر پاور بنانا چاہتا ہے اور چین کے حوالے سے بھی سازشوں کا جال بچھایا جا رہا ہے لیکن پاکستان کے غیور عوام ایسے تمام ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دینگے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز اسلامی جمعیت طلبا کے زیر اہتمام تین روزہ اجتماع عام کے اختتامی سیشن کے بعد نیوکیمپس سے اچھرہ تک امید پاکستان ملین مارچ کے اختتام پر ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سید منور حسن نے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں ہے ہمارے حکمران بھارت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے شہید کشمیریوں کے خون سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں امریکہ اور بھارت کے اس خطے میں اپنے اپنے عزائم ہیں۔ مغرب کے لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نکل آئے ہیں اور درحقیقت سرمایہ دارانہ نظام اللہ سے بغاوت کا نظام ہے جو غریب کی غربت میں مزید اضافہ کر رہا ہے اور امیر کی امارت میں مزید اضافہ کرتا ہے اقتصادی اور اخلاقی بحران ہے اور اخلاقی بحران سے قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں مایوسی ہے‘ بلوچستان کے سکولوں میں قومی ترانہ اور جھنڈا لہرانے پر پابندی ہے کراچی ٹارگٹ کلنگ میں گھرا ہوا ہے۔ قبائلی علاقوں میں ڈرون کی اجازت ہمارے ”غیرت مند“ حکمرانوں نے خود دے رکھی ہے اور کراچی کی جماعت کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر نہیں بنا مگر ہمارا موقف ہے کہ ہمارا نصب العین ہی اسلام ہے اور اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سو ارب ڈالر اس وقت باہر کے بنکوں میں پڑے ہیں اگر کرپٹ سیاستدان اپنے پیسے واپس لے آئیں تو 6 کروڑ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ ملک کے موجودہ بحران کا حل صرف جماعت اسلامی کے پاس ہے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام موجودہ نظام سے تنگ آ چکے ہیں 82 ممالک کے 1 ہزار سے زائد شہروں میں عوام سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ استعماری قوتوں نے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اب پاکستان میں بھی نظام کی تبدیلی کا کوئی راستہ نہیں روک سکتا۔ اب اللہ کا دین غالب آ کر رہے گا امن اور انصاف کا نظام آئے گا۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلی سید عبدالرشید نے ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس امید پاکستان مارچ نے پاکستان کے 19 کروڑ عوام کی ترجمانی کی ہے اس اجتماع عام سے بے بس عوام کو امید کا پیغام دیا ہے یہ زمین اسلام کی پہچان ہے۔ قبل ازیں جمعیت کے آخری اکیڈمک سیشن کیلئے اپنے تحریری پیغام میں محسن پاکستان و ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر نے کہا کہ اس وقت ملک اندرونی و بیرونی چیلنجز سے دوچار ہے نوجوان نسل ہی پاکستان کو ان مسائل سے باہر نکال سکتی ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ قوم اس وقت مایوسی کا شکار ہے۔ ایسے میں اسلامی جمعیت طلبہ کا ”امید بنو تعمیر کرو سب ملکر پاکستان کی“ کے عنوان سے تین روزہ اجتماع عام کا انعقاد درست سمت میں بروقت اقدام ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو شکنجے سے نکالنے کیلئے واحد حل علمی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنی صحت کی خرابی کے باعث اجتماع میں شرکت نہ کر سکنے پر معذرت کی۔ الخدمت فاﺅنڈیشن پاکستان کے سرپرست اعلی نعت اللہ خان نے کہاکہ عالم اسلام ہماری طرف دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج بیرون ملک سے یہ بیان دئیے جارہے ہیں کہ پاکستان کسی نظریے کے تحت وجود میں نہیں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود تحریک پاکستان میں شامل رہا جب ہر گلی کوچے میں پاکستان کا مطلب کیا کلمہ طیبہ کا نعرہ گونجتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ہم قائد اعظم کے پاکستان کو ان کی خواہش کے مطابق نہیں بناسکے جس کیلئے میں خود کو بھی مجرم سمجھتا ہوں ہم نے آدھا ملک گنوا دیا ہے اور آج محرومیوں اور ناانصافیوں کے باعث وہی نعرے بلوچستان میں لگ رہے ہیں جو مشرقی پاکستان میں تھے اور پھر بنگلہ دیش بن گیا۔