بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے اعلان میں فوج کی تائید شامل ہے: عابدہ حسین

لاہور (رفیعہ ناہید اکرام سے) سابق وفاقی وزیر عابدہ حسین نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے اعلان کے پس منظر میں فوجی حکام کی تائید شامل ہے، امریکہ اور پاکستان کے مابین نفرتیں اور تعلقات بیک وقت جاری رہیں گے، قومی انتخابات زیادہ دور نہیں، اس لئے بے صبری کی کوئی گنجائش نہیں، پاکستان میں بھارت، اسرائیل، امریکہ، چین اور سعودی عرب سے پیسے آتے ہیں اور پاکستانی ایک دوسرے کو مارتے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نوائے وقت سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے تجارت کے فروغ سے 18 کروڑ عوام کو فائدہ ہو گا، آج کی دنیا میں تجارت اور دشمنی ساتھ ساتھ چلتی ہے، بھارت سے تعلقات کے تناظر میں کشمیریوں کی قربانی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ کشمیری، پاکستان اور بھارت دونوں سے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے ڈرون حملے بڑھانے، نیٹو ہیلی کاپٹرز کی پاکستانی حدود کی خلاف ورزی اور پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں غیر ملکیوں کے ساتھ پاکستانی بھی جاں بحق ہوتے ہیں تاہم ہمیں پہلے اس بات پر فوکس کرنا ہو گا کہ 30 ہزار پاکستانیوں کو تو خود پاکستانیوں نے مار دیا۔ امریکہ ہمیں گرانٹس دے کر سمجھتا ہے کہ ہم اس کا ہر حکم مانیں گے تاہم کوئی ملک خود کفالت کے بغیر خودمختاری نہیں حاصل کر سکتا۔ پاکستان میں جمہوریت اسی لئے پروان نہیں چڑھ سکی کہ سیاسی کمیونٹی میں سے کوئی نہ کوئی بے صبری کا مظاہرہ کرتا رہا ہے اور فوجیوں کو یہ کہنے کا موقع ملتا رہا ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے میںسیاستدان ہمیں ملوث کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں مسلم لیگ میں واپسی کا قطعاً ارادہ نہیں رکھتی، میں پیپلز پارٹی میں ہوں اور اسی میں رہوں گی۔