بھارت نے ہمیں بنجر کرنے کے لئے یہودی لابی کے ساتھ ورکنگ گروپ بنا لیا: ظہور الحسن

ملتان (رخشندہ نیر سے) سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان چیف کوآرڈینیٹر ورلڈ واٹر اسمبلی حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا ہے دنیا میں 9 سو دنوں کے لئے پانی محفوظ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ بھارت 245 دنوں کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے جبکہ پاکستان صرف 30 دنوں کا پانی سٹور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس رفتار سے بھارت پاکستان کے دریاوں کو اپنی حدود میں بند کر رہا ہے 2012ءتک پاکستان صرف 18 دنوں کا پانی ذخیرہ کر سکے گا۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے مابین دریاوں کا تنازع نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور یہ بھی اٹل حقیقت ہے پاکستان کے ساتھ خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے چونکہ بھارت جس سطح پر پاکستان کے باقی ماندہ دریوں پر ڈبم بنانے بیراج تعمیر کرنے اور دریاوں کا رخ موڑنے کے بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے یہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ نوائے وقت فورم سے آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا دوطرفہ بات چیت کے ذریعے متنازع ڈیموں کا مسئلہ حل کرنے کا تذکرہ چل رہا ہے۔ جب تک ڈیم مکمل نہیں ہوتے یہ ٹیکنوکریٹ پراسس جاری رہے گا۔ بھارت نے یہودی لابی کے ساتھ پارٹنر شپ کی بنیاد پر ایک ایسا ورکنگ گروپ قائم کیا ہے جس کے تحت چناب‘ جہلم اور سندھ کو اپنی حدود میں کنٹرول کرنے سندھ اور پنجاب کو بنجر علاقوں میں تبدیل کرنے اور پاکستان کو کسی فوجی حملہ کے بغیر تباہ کرنے کے لئے بڑے چھوٹے 62 ڈیم مکمل کر چکا ہے۔ 31 ڈیموں کی تعمیر آخری مراحل میں ہے جبکہ 190 ڈیموں کی تعمیر پر سنجیدگی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا اس ورکنگ گروپ میں 9 ممالک‘ 4 ملٹی نیشنل کمپنیاں‘ ایک مالیاتی این جی او‘ 4 سکریٹ ایجنسیاں‘ 8 انجینئرنگ کمپنیاں ان ڈیموں کی تعمیر میں شریک ہیں۔ ان ڈیموں کی تعمیر پر 98 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے۔ انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا بھارت کو پاکستان کے راستے افغانستان تک راہداری دینا‘ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینا بھارتی دہشت گردی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ خدا کی قسم یہ سو فیصد غیر ملکی ایجنڈا ہے جس سے پاکستان کے وجود کو زبردست خطرہ ہے۔ یوں بھارت 2014ءتک مکمل طور پر خودمختار ہو کر پاکستان کو بغیر کسی فوجی طاقت اور بم کے بقیہ ڈیموں کے خودکار گیٹ کھول کر 48 گھنٹوں کے اندر ڈبونے کی صلاحیت رکھنے کے قابل ہو جائے گا۔ بھارتی آبی جارحیت پر بات کرتے ہوئے چیئرمین کالا باغ ڈیم موومنٹ انجینئر ممتاز احمد خان نے کہا بھارت سندھ طاس معاہدہ کا واضح اور کھلم کھلا ناجائز استعمال کر رہا ہے۔ بھارت کی اس آبی جارحیت میں پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر کی نااہلی اور غفلت نے بھارت کو بہت فائدہ پہنچایا ہے اور پاکستان کے خلاف اس کے عزائم کو بالواسطہ تقویت پہنچائی جس کی واضح مثال چناب پر بگلہار ڈیم کے معاملہ میں انٹرنیشنل ورٹ آف آریٹریشن میں پاکستان کی ناکامی ہے اور یہی صورتحال اب دریائے نیلم پر کشن گنگا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے معاملہ میں بھی پاکستان کو درپیش ہے۔ بھارت کی اس آبی جارحیت کا بروقت تدارک نہ کیا تو ناصرف اس سے پاکستان کی زرعی معیشت مکمل طور پر بھارت کے رحم و کرم پر ہو گی بلکہ اس سے پاکستان کی آزادی اور خودمختاری بھی دشمن کے رحم و کرم پر ہو گی۔ انڈس واٹر کمشنر کے سابق چیئرمین واپڈا شمس الحق الملک کی تعیناتی کی جائے اور انڈس واٹر کمشن کی دس سالہ کارکردگی کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ شعور ترقیاتی تنظیم کے کوآرڈینیٹر شاہد محمود انصاری نے کہا پاکستان کے چند کرپٹ‘ سرمایہ دار اس سازش میں شریک ہیں۔ میاں نعیم ارشد نے بتایا ماضی میں اقتدار بچانے کی خاطر دریاوں کا نظام بھارت کے حوالے کر دیا تھا اسی طرح توانائی کا نظام غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے‘ اب قوم کو بےدار ہو جانا چاہئے۔