سیلاب کا خطرہ: محکمہ آبپاشی پنجاب 6 بڑے بیراجز کو اپ گریڈ کرنے میں ناکام

لاہور (نیوز رپورٹر) پنجاب میں تیز بارشوں کی پشین گوئیوں کے باعث سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا مگر محکمہ آبپاشی پنجاب 6 بڑے بیراجزکوگزشتہ کئی برسوںکے بعد بھی اپ گریڈ نہیں کر سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں تعمیر ومرمت کے لئے فنڈزکی وافر رقم دستیاب ہونے کے باوجود صوبے کے بیراجز اور ہیڈ ورکس کی تعمیر گزشتہ 4 ماہ سے شروع نہیں ہو سکی۔ بیراجز اور ہیڈورکس کی اگر فوری تعمیر و مرمت اور بحالی کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے تمام بیراجز اور ہیڈ ورکس اپنی مدت پوری کر چکے ہیں جس کے بعد انہیں خطرناک قرار دیا گیا ہے ۔ صوبے میں 14بیراجز اور ہیڈ ورکس ہیں جن میں سے6 بیراجز بلو کی ، جناح ، تو نسہ ، سلیما نکی ، اسلام اور خانکی کی فوری تعمیر و مرمت اور بحالی کی ضرورت ہے۔ صرف تو نسہ بیراج کی بحالی کا کام 11ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیاگیا۔ فلڈ وارننگ سنٹر لاہور کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر بھی پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دریائے چناب مرالہ ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر آج شام چار بجے تک درمیانے سے اونچے درجہ کا سیلاب متوقع ہے۔ نشیبی علاقوں کے عوام محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے انتظامات کر لیں۔ نالہ بشین، شکرگڑھ میں پانی کی سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے۔ دریں اثناءوفاقی اور صوبائی محکمہ آبپاشی پنجاب کے افسران کی روایتی عدم توجہ سے 2009ءمیں مکمل ہونے والا کچی کینال، رینی کینال اور تھل کینال مصنوبہ 8 برس بعد بھی مکمل نہیں ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے اگر تینوں کینال مکمل ہو جاتی تو اس سے 40 لاکھ ایکڑ زمین کو سیراب کیا جا سکتا تھا۔ واضح رہے کہ منصوبے پر 100ارب روپے لاگت آئے گی۔
بیراجز/ ناکام