لیاقت علی خان پاکستان کیلئے زندہ رہے : احمد سعیدکرمانی ۔۔۔ شازش کے تحت شہید کیا گیا : مجید نظامی

لاہور (خبر نگار خصوصی) تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن اور سابق وزیر سید احمد سعید کرمانی نے کہا ہے قائد ملتؒ خان لیاقت علی خان شہید پاکستان کے لیے زندہ رہے اور انہوں نے اپنی جان بھی پاکستان کے لیے قربان کی۔ ایسے عظیم لوگ قوموں کو بہت کم نصیب ہوتے ہیں۔ وہ ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان ‘ لاہور میں تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما‘ آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری اور پاکستان کے پہلے وزیرا عظم قائد ملتؒ خان لیاقت علی خان شہید کی 59ویں برسی کے موقع پر منعقد خصوصی نشست سے صدارتی خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی‘ ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ قائد ملتؒ میموریل سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری محفوظ النبی‘ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی‘ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان‘ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید اور تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سیکرٹری رفاقت ریاض بھی موجود تھے۔ نشست میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات ماہرین و دانشوروں کے علاوہ پنجاب کالج آف کامرس‘ فیروز پور روڈ اور قائد سکول سسٹم والٹن روڈ‘ لاہور کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک ‘ نعت نبویﷺ اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری امجد علی نے حاصل کی جبکہ غلام مرتضیٰ عاجز نے بارگاہِ نبویﷺ میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ سید احمد سعید کرمانی نے کہا قائد ملتؒ کی جائیداد کرنال اور مظفر نگر میں تھی لیکن جب وہ پاکستان آئے تو انہوں نے اپنی جائیداد کا کوئی کلیم پیش نہیں کیا۔ ایک موقعہ پر قائد ملتؒ نے بھارت کو مُکا دکھایا تھا جس نے اسے پاکستان کے خلاف غلط اقدامات سے باز رکھا۔ مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں کچھ لوگوں نے قائد ملتؒ کی مسلم لیگ کے سیکرٹری ہونے پر مخالفت کی تو قائداعظمؒ نے قائد ملتؒ کی حمایت کی۔ میں بھی اس اجلاس میں شریک تھا۔ شہادت کے وقت قائد ملتؒ کی جرابیں اور بنیان پھٹی ہوئی تھیں۔ قائد ملتؒ کی پاکستان کے لیے خدمات بے انتہا ہیں۔ وہ پاکستان کے لیے زندہ رہے اور پاکستان کے لئے ہی شہید ہوئے۔ ایسے لوگ قوموں کو بہت کم نصیب ہوتے ہیں جو قوم کے لیے زندہ رہتے اور قوم کے لیے مرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے سیاستدانوں کو یہ توفیق دے کہ وہ قائد ملتؒ لیاقت علی خانؒ کے نقشِ قدم پر چل سکیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا لیاقت علی خان ہمارے قائد ملتؒ تھے۔ قائداعظمؒ نے ہمیں پاکستان کا تحفہ دیا اور اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اس کے بعد قائد ملتؒ لیاقت علی خان نے چار سال تک پاکستان کی خدمت کی اور وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے۔ اس دوران سیاست میں پارٹی بازی شروع ہو گئی۔ پنجاب میں نواب ممتاز خان دولتانہ اور افتخار حسین ممدوٹ کی آپس میں چپقلش شروع ہو گئی حالانکہ وہ دونوں بڑے گہرے دوست تھے۔ ممدوٹ کا زیادہ وقت دولتانہ کے ہاں ہی گزرتا تھا لیکن اقتدار بڑی بری چیز ہے جو بھائیوں کو بھی لڑا دیتی ہے۔ اس کشمکش میں لیاقت علی خان نے دولتانہ کا ساتھ دیا۔ جہاں تک نوائے وقت کا تعلق ہے وہ ممدوٹ خاندان کے ساتھ تھا اور یوں اسے قائد ملتؒ کی مخالفت بھی کرنا پڑی۔ نوائے وقت کا تمام حکمرانوں سے یکساں رویہ رہا ہے۔ قائد ملتؒ راولپنڈی کے جلسے میں اللہ کو پیارے ہوئے ۔ انہیں ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا کیونکہ قاتل کو اسی جگہ پر گولی سے اڑا دیا گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ قائد ملتؒ کو شہید کرنے والوں کو پکڑا کیوں نہیں گیا لیکن بے نظیر قتل ہوئیں اور ان کے شوہر آصف علی زرداری ملک کے صدر ہونے کے باوجود اپنی اہلیہ کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکے حالانکہ پیپلز پارٹی کے لوگ کہتے ہیں ہم ان کے قاتلوں کو گرفتار کر کے رہیں گے۔ ہماری دعا ہے پاکستان میں یہ روایت ختم ہو۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسلامیہ کالج لاہور میں زمانہ طالب علمی کے دوران 1946ءکے انتخابات میں کام کرنے کے صلے میںقائد ملتؒ کے ہاتھوں ہمیں مجاہد پاکستان کا سرٹیفیکیٹ اور ایک اعزازی تلوار ملی۔ میں نے جہادِ کشمیر میں اس طرح حصہ لیا ہے کہ ہمارے دوست حفیظ الرحمان قلعہ گجر سنگھ‘ لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ جب قبائلیوں نے کشمیر میں جہاد شروع کیا تو حفیظ الرحمان ان مجاہدین کے لیے سامان خوردو نوش لے جایا کرتے تھے اور ہم ان کے گھر میں بیٹھ کر یہ سامان پیک کیا کرتے تھے۔ ہم جہاد کے بغیر کشمیر کو آزاد نہیں کرا سکتے۔ موجودہ حکومت جہاد کو فساد کہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے فسادیوں سے ہماری جان چھڑائے۔ تحریک پاکستان کے کارکن اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا قائداعظمؒ، علامہ اقبالؒاور مادر ملتؒ محترمہ فاطمہ جناحؒ کے بعد تحریک پاکستان کے عظیم رہنما قائد ملتؒ لیاقت علی خان شہید تھے۔ قائداعظمؒ کو لندن سے واپس بلوا کر مسلم لیگ کی قیادت پر آمادہ کرنا نہایت دشوار کام تھا جو لیاقت علی خان نے سرانجام دیا۔ قائدملتؒ مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری رہے اور انہوں نے اس حیثیت میں اس جماعت کی ترقی و کامیابی کےلئے بے حد کام کیا۔ وہ قائداعظمؒ کے بڑے بااعتماد ساتھی تھے اور قائداعظمؒ انہیں اپنا دست راست سمجھتے تھے۔ وہ درویش صفت انسان تھے اور ان کی زندگی ہر قسم کے سکینڈل سے پاک تھی۔ جب وہ شہید ہوئے تو جوتے اتارنے پر پتا چلا کہ ان کی جرابیں پھٹی ہوئی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن اس کا سنگ بنیاد رکھنے والوں کے خلوص کی وجہ سے یہ ملک قائم و دائم رہا۔ قائد ملتؒ نے ہمیشہ غریب پرور بجٹ تیار کیا جبکہ آج کل تیار کئے جانے والے بجٹ کا جھکاﺅ امرا کی طرف ہوتا ہے۔ قائد ملتؒ چاہتے تھے ترقی اس انداز میں ہونی چاہئے کہ امیروںسے وسائل لے کر غریبوں میں تقسیم کئے جائیں۔ ہم نے کئی بار حکومت کی توجہ قائد ملتؒ کے بجٹ کی جانب دلائی ہے لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا لیاقت علی خان کے مُکے نے بھارت کے خلاف ایک ایٹم بم کا کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کی اہمیت کو دنیا جانتی تھی اس لیے امریکی صدر ٹرومین نے خود قائد ملتؒ کا استقبال کیا۔ قائد ملتؒ نے قرارداد مقاصد منظور کرا کے آئین کے لیے بنیاد فراہم کی۔ قائد ملتؒ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے تھے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ تمام مشاہیر تحریکِ آزادی کی یاد میں سارا سال پروگرام منعقد کرا کر نئی نسلوں کو ان کے عظیم کارناموں سے آگہی فراہم کرتا ہے۔ قائد ملتؒ میموریل سوسائٹی کراچی کے جنرل سیکرٹری محفوظ النبی نے کہا قائد ملتؒ کو شہید ملت کا خطاب ممتاز عالم دین علامہ سید سلیمان ندوی نے دیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم نے پوری دنیا پر نہایت منفی اثرات مرتب کئے تھے لیکن قیام پاکستان کے فوراً بعد لیاقت علی خان نے ان منفی اثرات کو نوزائیدہ مملکت پاکستان پر اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ امریکہ کے دورے پر امریکی صدر ٹرومین نے قائدملتؒ کا استقبال کیا حالانکہ یہ پروٹوکول کے خلاف تھا۔ یہ اعزاز اس سے پہلے یا اس کے بعد کسی مہمان کو نہیں دیا گیا۔ قائد ملتؒ کبھی کانگریس میں شامل نہیں ہوئے یہ دو قومی نظریے پر ان کے پختہ یقین کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے مجید نظامی کو قائد ملتؒ کی برسی پر تقریب منعقد کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا اور نظریاتی محاذ پر ان کی خدمت کو سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی نے کہا نوابزادہ لیاقت علی خان نے مسلم لیگ کی ترقی و ترویج کےلئے بے حد کوشش کی۔ قائد ملتؒ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جنہوں نے قائداعظمؒ کو لندن سے واپس ہندوستان آ کر مسلم لیگ کی قیادت کرنے پر آمادہ کیا۔ قائد ملتؒ جب تقریر کرتے تھے تو عوام میں جوش و جذبہ پیدا ہو جاتا تھا۔ ایک بار بھارت کے خلاف تقریر کرتے ہوئے قائد ملتؒ نے کہا بھارت نے پاکستان کے خلاف میلی نظر سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔ قائد ملتؒ کو شہید کرنے کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔ قائداعظم کی کابینہ نے میانوالی ہائیڈروپاور پراجیکٹ کے منصوبے کی منظوری دی جسے بعد ازاں کالا باغ ڈیم کا نام دیا گیا۔ لیاقت علی خان اس کابینہ کے رکن تھے۔ گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین کوپر روڈ لاہور کے شعبہ سیاسیات کی سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے کہا قائداعظمؒ کے دست راست مسلم لیگ کے ممتاز رہنما اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان 16 اکتوبر 1951ءکو شہید ہوئے۔ 1946ءکے انتخابات کے بعد جب حکومت کی تشکیل ہوئی تو اس میں نوابزادہ لیاقت علی خان کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ آپ نے اس انداز سے وزارت چلائی کہ پہلا بجٹ ہی غریب پرور بنایا۔ آپ کا ایک اہم کارنامہ قرارداد مقاصد کی منظوری تھا۔ جب دنیا کے بیشتر ممالک نے اپنی کرنسی کی قیمت کم کر دی تو پاکستان سے بھی ایسا کرنے کو کہا گیا کہ وہ اپنی کرنسی کی قیمت کم کرے لیکن نوابزادہ لیاقت علی خان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت پاکستان کی کرنسی بھارت کی کرنسی سے زیادہ قیمتی تھی۔ بھارت نے پاکستان کو کوئلہ دینا بند کر دیا تو پاکستان نے بھارت کو کپاس کی برآمد پر پابندی عائد کر دی جس پر بھارت نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ نوابزادہ لیاقت علی خان کے کارنامے ہمیشہ تابندہ رہیں گے۔ قائد ملتؒ نے یہ کہا تھا میں اس ملک کےلئے اپنا خون بھی بہا دوں گا۔ آپ کو راولپنڈی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔ قائد ملتؒ ملک کے وزیراعظم تھے لیکن ان کے پاس اپنا گھر نہیں تھا، جب شہید ہوئے تو ان کے بنک اکاﺅنٹ میں چند سو روپے موجود تھے۔ نشست میں قائدِ ملتؒ خان لیاقت علی خان شہید کی بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ نشست کے اختتام پر نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے شرکاءکی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔