ججز بحالی نوٹیفکیشن واپس لینے کا اقدام غیر آئینی، توہین عدالت ہوگی: وکلائ

لاہور / کوئٹہ (اپنے نامہ نگار سے / نیوز ایجنسیاں) وکلاءرہنماﺅں نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا اقدام آئین کی خلاف ورزی، توہین عدالت اور پارلیمنٹ کی بھی توہین ہوگی۔ پنجاب بار کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین رانا اکرم خان کا کہنا ہے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ایگزیکٹو آرڈر کی واپسی کے نام پر عہدوں سے ہٹانا آرٹیکل 6کے زمرے مےں آتا ہے۔ سینئر وکیل اے کے ڈوگر نے کہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت کوئی ایسا اقدام کرتی ہے تو وہ بھی مشرف کے 3نومبر کے اقدام جیسا ہی ہوگا۔ ہائیکورٹ بار کے سابق سیکرٹری رانا اسد اللہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ججوں کو عہدوں سے ہٹایا تو وہ آئین توڑنے کی مرتکب ہوگی۔ دریں اثناءجی این آئی کے مطابق کوئٹہ مےں وکلاءسے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ موجودہ آزاد عدلیہ کو نوٹیفکیشن کی توسیع کے نہ ہونے پر واپس گھر بھیج کر پی سی او ججز دوبارہ بحال کئے جائیں جس مےں وہ ناکام ہوگئے ہےں، مشرف اور پیپلز پارٹی کی پالیسیوں مےں کوئی فرق نہیں ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدارتی امیدوار احمد اویس کا کہنا ہے کہ آزاد عدلیہ کےخلاف ایوان صدر سازشوں کی آماجگاہ ہے، وکلا مےں جب تک اتحاد ہے عدلیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ این این آئی کے مطابق سپریم کورٹ بار کی صدارت کےلئے امیدوار عاصمہ جہانگیر نے ایک انٹرویو مےں کہا ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنے اندر ٹھہراﺅ پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور جس خبر کا سرپیر تک نہیں ملا اسے لے کر کشیدگی بڑھانا کسی طرح بھی حکمت نہیں، اس خبر کے بعد ججز کا ردعمل حالات کے مطابق تھا۔