پنجاب اسمبلی :صوبائی حکمران مسائل اور مہنگائی کیخلاف لانگ مارچ کریں : اپوزیشن

لاہو ر(خبرنگار+ اے پی پی+ این این آئی) پنجاب اسمبلی میں مہنگائی پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چودھری ظہیر الدین نے کہا کہ ذاتی سیاسی مفادات کے لئے لانگ مارچ کی دھمکی دینے، پنجاب کے حکمران مہنگائی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے لانگ مارچ کریں، حکومتی ارکان رانا افضل، یاسین سوہل، نوید انجم اور مہر اشتیاق نے سبزہ زار، ہربنس پورہ اور دیگر علاقوں میں تھانوں کے اردگرد سڑکوں پر پولیس کے غیرقانونی قبضوں کے خلاف شدید احتجاج کیا، سپیکر نے وزیر قانون کو تمام ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرکے رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ رانا ثناءنے اس پر کہاکہ قبضہ تو قبضہ ہی ہوتا ہے چاہے کوئی سرکاری ادارہ کرے یا عام آدمی، کارروائی ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق ظہیر الدین نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے انتخابات سے پہلے سیاسی نعرے میں کہا تھا کہ 1997ءکی قیمتیں واپس لائیں گے، میں چیلنج کرتا ہوں کہ یہ مجھے 2007ءکی ہی خوردونوش اشیاءکی قیمتیں واپس لاکر دکھا دیں، ملازمتوں پر پابندی کی وجہ سے نوجوانوں کے پاس خودکشی اور جرائم کے سواکوئی راستہ نہیں، حکومت فوری طور پر ملازمتوں پر پابندی ختم کرے۔ صوبہ مقروض ہو چکا ہے، 16گھنٹے لوڈشیڈنگ اور 24گھنٹے بے آرامی ہے۔ 2007ءسے اب تک آٹے کی قیمت میں 100فیصد، چینی کی قیمت میں 168فیصد، مرغی کی قیمت میں 80فیصد، مٹن 100فیصد، بیف کی قیمت میں 80 فیصد، دودھ کی قیمت میں 90فیصد، انڈوں کی قیمت میں 80فیصد اور بجلی کی قیمت میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چودھری عبدالغفور نے کہا کہ حکومت مہنگائی اور دیگر مسائل کے حل کیلئے کوششیں کر رہی ہے اور جس طرح چین میں ذخیرہ اندوزوں کو چوراہوں پر سرعام پھانسی دی گئی تھی پاکستان میں بھی ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ وقفہ سوالات میں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پاکستان میں کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر قیام نہیں کر سکتا۔ جو افغان مہاجرین صوبے میں کہیں بھی مقیم ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہیں مہاجر کیمپوں تک محدود کیا جائے گا۔ سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کریں گے ٹیکسلا‘ لاہور سمیت تمام علاقوں سے افغانیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے۔ خواجہ عمران نذیر‘ میاں نصیر‘ مہر اشتیاق‘ حاجی اللہ رکھا نے گذشتہ روز بھی وقفہ سوالات میں ضمنی سوالات پوچھ کر وزراءکو ”ٹف ٹائم“ دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ میاں نصیر کے ایلیٹ ٹریننگ سکول کے بارے ضمنی سوالات پر ایک بار جواب دیتے ہوئے وزیر قانون کا لہجہ خاصا سخت ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پراپرٹی ڈیلنگ کا کام کرتے ہیں۔ سید حسن مرتضیٰ نے صوبوں میں پانی کی تقسیم اور مستقبل میں پانی کی کمی کے حوالے سے مسئلہ کے حل کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔ جمعة المبارک کی وجہ سے پنجاب اسمبلی پر سکیورٹی کے معمول سے زیادہ سخت انتظامات کئے گئے تھے۔