نیٹو کو سامان کی ترسیل کس معاہدے اور شرائط کے تحت ہوتی ہے‘ حکومت جواب دے : قائمہ کمیٹی برائے تجارت

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتایا جائے پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو اور ایساف فورسز کے لئے سامان کی ترسیل کس معاہدے، کن قواعد و ضوابط کے تحت اور کن شرائط پر ہوتی ہے جبکہ وزارت تجارت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت افغانستان میں نیٹو اور ایساف فورسز کو لاجسٹک سپورٹ اور سٹرٹیجک معاونت فراہم کرنے کا پابند ہے جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے کہا کہ وزارت دفاع نے حکومت اور ایساف کے درمیان معاہدے میں صرف معاون کا کردار ادا کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا اجلاس میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشن کے امور اور نیٹو افواج کے لئے سامان کی فراہمی کے معاملات زیر بحث آئے ،اس موقع پر کمیٹی نے وزارت تجارت، وزارت دفاع اور ایف بی آر سے استفسار کیا کہ حکومت پاکستان کا نیٹو اور ایساف فورسز کے سامان کی ترسیل کا کیا معاہدہ ہے۔ اس پر تینوں اداروں کے افسران تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ سیکرٹری تجارت ظفر محمود نے بتایا کہ نیٹو فورسز کو پاکستان کے راستے سامان کی فراہمی سے وزارت تجارت کا کوئی تعلق نہیں ہے تاہم ایڈیشنل سیکرٹری تجارت نے بتایا کہ 2001ءمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت پاکستان، افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برسر پیکار فورسز کو سٹرٹیجک تعاون فراہم کرنے اور دیگر سہولیات دینے کا پابند ہے، انہوں نے کہا کہ نیٹو کے لئے سامان کی ترسیل کا طریقہ کار 2002ءمیں ایف بی آر نے کیا تھا۔ ممبر کسٹم ایف بی آر منیر قریشی نے بتایا کہ ماضی میں کبھی نیٹو کے سامان کو چیک نہیں کیا گیا تاہم مستقبل میں اسے چیک کرنے کا طریقہ کار طے کیا جا رہا ہے۔