فوج‘ عدلیہ اور جمہوری قوتوں میں ٹکراﺅ پیدا کرنے والے قادیانیوں کو منظر عام پر لایا جائے

چنیوٹ (نمائندہ نوائے وقت) سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس دفاع ختم نبوت کیلئے تجدید عہد، عالم اسلام و ملکی سلامتی اور قادیانیوں کیلئے ہدایت کی رقت آمیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ دعا ختم ہوتے ہی شرکاءاسلام اور تحفظ ختم نبوت کیلئے ایمانی جذبات لیکر قافلوں کی شکل میں واپس روانہ ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کلیدی عہدوں پر تعینات قادیانی سرکاری افسران انٹرنیشنل ایجنسیوں کے آلہ کار بن کر فوج، عدلیہ اور جمہوری قوتوں میں تصادم و ٹکراﺅ کی صورتحال پیدا کررہے ہیں۔ تمام سرکاری محکموں کے افراد برداشت و انفعالیت کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے انکی اسلام دشمن لابنگ اور پالیسیوں کو ناکام بنائیں۔ قادیانی امت مسلمہ کے قلب و جان سے تحفظ ختم نبوت کی روح کو ختم کرنے اور نوخیز نسل کو ایمان و اسلام سے برگشتہ کرنے کیلئے میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سول اور فوج کے تمام کلیدی عہدوں پر براجمان سکہ بند قادیانیوں کی لسٹ منظرعام پر لاکر دینی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں پائی جانیوالی تشویش کو دور کرے اور میڈیا پر قادیانی اثرورسوخ کی روک تھام کیلئے منظم لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے۔ کانفرنس کی صدارت خانقاہ موسیٰ زکی شریف کے سجادہ نشین مولانا شہاب الدین نے کی جبکہ کانفرنس سے مولانا سلیم اللہ‘ سید منور حسن، قاری حنیف جالندھری، مولانا ضیاءاللہ بخاری، مولانا اللہ وسایا، مولانا عالم طارق، مولانا مفتی محمد بن مفتی محمد جمیل خاں، حافظ سعید لدھیانوی، مولانا الیاس گھمن، منظور احمد راجپوت ایڈووکیٹ سمیت مذہبی اور دینی جماعتوں کے قائدین اور علماءکرام نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ چناب نگر کے قادیانی باسی اپنی جماعت کے جابرانہ و آمرانہ نظام کے مخالف نظر آتے ہیں۔ مولانا سلیم اللہ نے کہا کہ قادیانی اپنے لئے اقلیت کے حقوق تسلیم کر لیں اور امتناع قادیانیت ایکٹ کی خلاف ورزی و مخالفت ترک کر دیں تو انہیں پاکستان کی عمدہ سوسائٹی کا حصہ ماننے میں کسی فرد کو انکار نہیں ہو سکتا۔ منور حسن نے کہا کہ استعماریت طالبان اور عسکریت پسندوں کے خاتمہ کی آڑ لیکر ڈرون حملوں کے ذریعے پاکستانی عوام، فوج اور جغرافیائی سرحدات کو غیرمحفوظ کررہا ہے۔ نادیدہ قوتیں قادیانی ایماءپر پاکستان میں افغانستان جیسی صورتحال پیدا کرکے مذموم بیرونی مقاصد کی تکمیل چاہتی ہیں۔ ہمیں اپنے تمام تر فروعی و سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر سٹریٹ پاور کے ذریعے سامراجیت کے آلہ کاروں کی چالوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ حنیف جالندھری نے کہا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کے بدلہ میں یورپین ممالک میں قادیانیوں کی لاٹری نکلی ہوئی ہے۔ قادیانی لابیاں ایوان اقتدار کے اردگرد گھیرا تنگ کرکے قادیانی مسلک کو ری اوپن کرنا چاہتے ہیں۔ عالم طارق نے کہا کہ ختم نبوت سے ایمانی وفاداری کا مشن دنیا کی کوئی طاقت ہم سے نہیں چھین سکتی اور نہ ہی قادیانی دہشت گرد کی فرنگی، دورنگی نواز حکمت عملی مسلمانوں کو انکے ایمانی و عرفانی عقائد سے متزلزل کر سکتی ہے۔ ضیاءاللہ شاہ بخاری نے کہا کہ خاتم النبین کے قرآنی الفاظ حضور اکرم کے بعد ہر قسم کی جدید نبوت کو ممنوع قرار دے رہے ہیں۔ مفتی کفایت اﷲ نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔ کسی سازشی عناصر کو اس پر شب خون مارنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائےگی۔ بیوروکریسی میں چھپے ہوئے قادیانی ملکی سلامتی کےلئے گھناونا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ ختم نبوت کا مشترکہ پلیٹ فارم قادیانیوں کو برداشت نہیںہو رہا۔ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر نے متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانی طلباءکی غیرآئینی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے داخلہ فارموں میں تحفظ ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کیا جائے اور نصاب میں ختم نبوت کے متعلق باقاعدہ مضامین شامل کئے جائیں اور داخلہ فارموں کے مذہب کے خانہ میں اپنے کو مسلمان لکھنے والے قادیانی طلباءکے خلاف مقدمات قائم کئے جائیں۔قادیانی دہشت گرد اداروں اور عسکریت پسند تنظیموں خدام الاحمدیہ، انصار اﷲ، لجنہ اماءاﷲ اور تنظیم اطفال الاحمدیہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ ایٹمی توانائی کے تمام شعبوں سے قادیانیوں کو نکالا جائے۔ سول اور فوج کے تمام محکموں سے بھی قادیانیوں کو فارغ کیا جائے۔ قادیانیوں کے خلاف نیشنل اسمبلی کی ان کیمرہ کارروائی کو اوپن کیا جائے۔ وفاقی شرعی عدالت نے سودی لین دین کے متعلق جو فیصلہ دے رکھا ہے اسے عملی طور پر تسلیم کیا جائے‘ اسلامی نظریہ کونسل کی سفارشات کی روشنی میں مرتد کی شرعی سزا کو نافذ کیا جائے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کیخلاف اور سیلاب زدگان سے اظہار ہمدردی کی قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔