چھوٹو گینگ کے مطالبات تسلیم، مغوی 8 پولیس اہلکار بازیاب، کوئی رہا نہیں ہوا، ڈی پی او

راجن پور+ رحیم یار خان (نامہ نگاروں سے+ نوائے وقت رپورٹ) تمام مطالبات منظور ہونے پر 9 روز بعد چھوٹو گینگ نے ڈاکٹر خان وزیر اور مغوی پولیس اہلکار رہا کر دئیے۔ 9 روز کے محاصرے کے بعد پولیس ایک مرتبہ پھر ناکام لوٹ آئی۔ ایم پی اے مسلم لیگ (ن) عاطف مزاری نے ڈیل میں اہم کردار ادا کیا۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ 9 روز قبل کچہ جمال میں واقع پولیس چوکیوں پر چھوٹو گینگ کے اشتہاریوں نے دھاوا بول کر 9 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر پولیس کے زیر حراست 3 افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ گزشتہ شب ممبر صوبائی اسمبلی عاطف خان مزاری کی جانب سے ڈاکوﺅں کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات کی کامیابی کی نوید سنائی گئی اسی دوران پولیس نے چھوٹو گینگ کے زیر حراست تین ملزمان اسحاق، عبدالرزاق اور بشیر کو بہاولپور جیل سے رہائی دلا کر چھوٹو گینگ کے حوالے کیا، اسی دوران زیر حراست خواتین اور بچے بھی رہا کر دئیے گئے تاہم پولیس نے چوکیوں کے خاتمے کیلئے مہلت طلب کر لی۔ محفوظ راستہ فراہم کئے جانے پر بستی ملوک سے اغواءکئے گئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکرٹری ڈاکٹر خان وزیر ان کے بیٹے شاہ زیب اور ڈسپنسر ملک نذیر کے علاوہ مغوی پولیس اہلکاروں میں غلام یاسین، محمد الیاس، محمد عارف، محمد سلیم، عبدالکریم، نیاز احمد، سکندر حیات اور ریاض احمد کو چھوٹو گینگ نے ایم پی اے عاطف مزاری کے حوالے کیا جبکہ رابطہ کرنے پر پولیس نے مغویوں کی رہائی پر تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ چھوٹو گینگ کے خلاف کچے کے علاقے میں پولیس آپریشن کی نگرانی کرنے والے ڈی پی او رحیم یار خان سہیل ظفر چٹھہ نے صحافیوں کو بتایا کہ راجن پور میں ڈاکوﺅں نے کسی مغوی پولیس اہلکار کو رہا نہیں کیا۔ آٹھ پولیس اہلکار ابھی تک ڈاکوﺅں کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکوﺅں سے مذاکرات جاری ہیں، رات گئے تک پیشرفت نہیں ہو سکتی ہے ملزمان کا تعاقب جاری ہے، ہماری پہلی ترجیح مغوی پولیس اہلکاروں کی رہائی ہے۔بی بی سی کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) اختر عمر حیات لالیکا کا کہنا ہے کہ پولیس کامیابی کے بہت قریب ہے اور انہیں توقع ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں پولیس اہلکاروں کو رہا کروا لیا جائے گا۔ ”ڈاکو ابھی تک فرار ہیں اور ہم ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ہم چند گھنٹوں میں یہ علاقہ کلیئر کر دیں گے اور جب یہ علاقہ کلیئر ہو جائے گا تو انہیں پولیس اہلکاروں کو چھوڑنا پڑے گا۔“ آر پی او کے مطابق اس وقت پولیس اور ڈاکوو¿ں کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ مقامی سیاستدانوں کے ذریعے پہلے چھوٹو گینگ سے بات چیت کی گئی لیکن ان کے مطالبے ایسے نہیں تھے جنہیں تسلیم کیا جا سکتا۔ ”ڈاکوو¿ں کا مطالبہ تھا کہ کچے کے علاقے میں دریائے سندھ کے پاس پولیس چوکیاں ختم کی جائیں جو ہم نے یکسر مسترد کر دیا۔ اس وقت ان کا کوئی خاص مطالبہ نہیں ہے اور نہ ہی ہم ان کی کوئی بات مانیں گے۔ اگر ہم نے ان کے مطالبے ماننے ہوتے تو پہلے دن ہی مان لئے جاتے۔ یہ مارے جائیں گے یا گرفتار ہوں گے یا پھر یہاں سے بھاگ جائیں گے۔ ہم اپنے بندے بھی واپس لیں گے اور ان کو ہم اس علاقے سے نکلنے بھی نہیں دیں گے۔“