سیاہ فام لڑکے کا قتل، ملزم کی رہائی کیخلاف مظاہرے کئی امریکی شہروں تک پھیل گئے

واشنگٹن (اے پی پی) امریکی ریاست فلوریڈ ا میں 17سالہ غیر مسلح سیاہ فام لڑکے ٹریوون مارٹن کو قتل کر دینے والے چوکیدار جارج زمر مین کی رہائی کے عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے واشنگٹن نیو یارک شکاگو ،فلاڈ یلفیا ،سان فرانسسکو ،اٹلانٹا اور اوک لینڈ سمیت کئی شہروں میں پھیل گئے ہیں جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے کام کر نے والے اداروں کی بڑی تعداد اور مقتول لڑکے کے لواحقین نے عدالتی فیصلہ پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ امریکی صدر بارک اوبامانے شہریوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق بے گناہ قرار دئیے جانے والے جارج زمر مین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں سو شل میڈیا پر مختلف لو گوں کی طرف سے سنگین دھمکیوں کا سامنا ہے اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ جارج زمر مین کو قتل کردیا جائے گا۔امریکی شہری اس واقع کو نسلی تعصب کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں ۔مارٹن ٹریوون کو 25فروری 2012ءکو ریاست فلوریڈا کے قصبے سانفورڈ میں قتل کردیا گیا تھا ۔6خواتین ججز پر مشتمل جیوری نے مقدمہ کی 3ہفتے تک سماعت کے بعد ملزم کو بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔ امریکہ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بڑے اداروں میں سے ایک نیشنل ایسوسی ایشن فاردی ایڈوانسمنٹ آف کارڈ پیل نے اس فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف دستخطی مہم چلانے کا اعلان کیا جس میں اب تک کئی لوگ حصہ لے چکے ہیں۔