جہاد کے نام پر ایک دوسرے کو مارنے والے پاکستان پر رحم اور معاملات جرگے میں حل کریں : مجید نظامی

لاہور (خبر نگار) پاکستان کا قیام اس لئے ناگزیر تھا کہ یہ مشیت ایزدی تھی ۔ پاکستان بننا تھا، لہٰذا بن کر رہا۔ ہندوستان تقسیم ہونا تھا اس لیے تقسیم ہو کر رہا۔ اب یہ ہماری بالخصوص نسل نو کی ذمہ داری ہے کہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز صحافی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین جناب مجید نظامی نے نظریاتی سمر سکول کے سترہویں روز مہمان مقرر کی حیثیت سے ’’پاکستان کیوں ناگزیر تھا؟‘‘ کے موضوع پر اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کیا۔ دوران خطاب ہال بار بار تالیوں سے گونجتا رہا۔ اس سکول کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا ہے جو ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہور میں جاری و ساری ہے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز حسبِ روایت تلاوتِ قرآن مجید‘ نعتِ رسول پاکؐ اور قومی ترانے سے ہوا۔ نظریاتی سمر سکول کے بچوں نے ترنم کے ساتھ ملی نغمہ پیش کیا۔ نشست میں فرزندانِ پاکستان کی جانب سے جناب مجید نظامی کے تعارف پر مبنی کتابچہ تقسیم کیا گیا۔ جناب مجید نظامی نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ برصغیر پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی اور اس کے بعد ہمارے حکمران یکے بعد دیگرے آج کل کے حکمرانوں کی طرح اُس زمانے میں بھی عیاشیوں میں پڑ گئے اور انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی آزادی کھو دی۔ انگریز جو ایک تاجر قوم کی حیثیت میں ہندوستان آئے‘ انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے قدم جما لئے اور برصغیر پر کمپنی کی حکومت قائم کر دی ۔ ہندو نے ان کے ساتھ تعاون کیا۔ مسلمانوں سے چونکہ سلطنت یا حکومت چھینی گئی تھی ‘اس لئے انہوں نے انگریزوں کی مخالفت اور مزاحمت کی۔ ایک سو سال نہیں‘ دو سو سال کے بعد جب انگریزوں نے دوسری عالمگیر جنگ میں بے شک فتح حاصل کی لیکن وہ شکست و ریخت کا شکار ہو چکے تھے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم ہندوستان کو چھوڑ کر واپس چلے جائیں۔ چنانچہ ہندوئوں نے کوشش کی کہ بھارت ماتا جسے وہ ’’گائو ماتا‘‘ کہتے تھے ،تقسیم نہ ہو اور پاکستان نہ بنے۔ ہندوئوں نے کہا کہ یہ اکھنڈ بھارت ہے لیکن مسلمانوں نے کہا کہ نہیں جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ہم وہاں اپنا ملک بنا کر رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نام ان علاقوں کو بعد میں دیا گیا لیکن حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے نظریۂ پاکستان دیا اور حضرت قائداعظمؒ کو‘ جو ہندوستان کو چھوڑ کر لندن میں بارایٹ لاء کرنے کے بعد پریکٹس کر رہے تھے ‘انہیں لکھا کہ واپس آئیے اور قوم کی رہنمائی کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علامہ اقبالؒ تو 1938ء میں اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن 1940ء میں اسی شہر لاہور میں23 مارچ کو حضرت قائداعظمؒ کی زیر صدارت تقسیم ہند کی قرارداد پاس ہوئی اور یہ ہمارا نصب العین ٹھہرا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے صرف 6 سال کی مدت میں 1946ء میں انگریز نے یہ تسلیم کر لیا کہ بھارت تقسیم ہو کر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ مائونٹ بیٹن نے پوری کوشش کی کہ ہندوستان تقسیم نہ ہو ۔ ان کی بیگم‘ پنڈت نہرو کی دوست تھیں لیکن اس کے باوجود مسلمان حضرت قائداعظمؒکی زیر قیادت ڈٹے رہے اور انہوں نے ہندوستان کو تقسیم کروا دیا اور پاکستان معرض وجود میں آگیا لیکن دو پاکستان بنے: ایک مشرقی پاکستان اور دوسرا مغربی پاکستان جس میں آج کل ہم رہتے ہیں ۔جہاں تک مشرقی پاکستان کا تعلق ہے انہوں نے ہمارا پورا ساتھ دیا لیکن 10 سال بعد جنرل ایوب خان نے خود ساختہ فیلڈ مارشل بن کر ملک پر قبضہ کر لیا اور اس کے بعد یحییٰ خان کی باری آگئی تو ہمارے بنگالی بھائیوں نے کہا کہ ہمارا تو کوئی جرنیل نہیں ہے ۔ اگر جرنیلوں نے ہی پاکستان پر حکومت کرنی ہے جو جمہوریت کے لئے بنا تھا تو پھر ہماری باری نہیں آئے گی اور اس طرح آپ نے پڑھا یا سنا کہ بنگلہ دیش معرض وجود میں آگیا۔ میرا ایمان ہے کہ ہم دونوں ایک بار پھر اکٹھے ہوں گے اور پاکستان ایک ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکے کا کریڈٹ میاں نواز شریف کو جاتا ہے اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بلانے کا کریڈٹ بھٹو مرحوم کو جاتا ہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ بھٹو سے لے کر نواز شریف تک جتنے بھی حکمران گزرے ‘انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اپنا پورا کردار ادا کیا اور اسی ایٹم بم کی وجہ سے جو محسن پاکستان اور ان کے درجن بھر سے زائد ساتھیوں کی شب و روز محنت کا ثمر ہے‘اب ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا ہے ۔جناب مجید نظامی نے کہا کہ ہم لالہ جی سے کہتے ہیں کہ لالہ جی باز آجائو۔ پہلے تو ہم صرف ایک ہزار سال کیلئے آئے تھے ۔اگر اب آپ نے کوئی پنگا لیا تو ہم انشاء اللہ 2 ہزار سال کیلئے بھارت میں آئیں گے۔ پیارے بچو میں پھر یہی عرض کروں گا کہ پاکستان کا قیام اس لئے ناگزیر تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا تھی۔ پاکستان بننا تھا اور بن کر رہا اور اب آپ لوگ اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔ انہوںنے بچوں کو تاکید کی کہ اس نظریاتی یونیورسٹی سے اپنی ڈگری لینے کے بعد اپنی کلاس میں، اپنے گھر میں، اپنے دوستوں کو قیام پاکستان کے بارے میں آپ نے جو کچھ یہاں سنا ہے‘ پڑھا ہے‘ دیکھا ہے‘ ان کو بھی بتائیے اور نظریہ ٔپاکستان یا دوقومی نظریے کے بارے میں بتائیے کہ ہندو اور مسلمان الگ قومیں تھیں اور الگ قومیں رہیں گی ۔ بعد ازاں طلبہ و طالبات نے جناب مجید نظامی سے نہایت فکر انگیز سوالات کئے۔ مریم نے پوچھا کہ قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق ہمیں متحد ہو کر رہنا چاہئے لیکن لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ معلوم نہیں بیٹے آپ کا اشارہ کس طرف ہے کئی جگہ ایک دوسرے کی جان لی جارہی ہے جہاں تک قبائلی علاقوں یا سوات کا تعلق ہے وہاں لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے جہاد کو فساد بنا دیا ہے لیکن جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں کہ آپ جہاد کے بغیر کشمیر واپس نہیں لے سکتے۔ آدھے سے زیادہ کشمیر بھارت کے پاس ہے جسے وہ اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے اس لئے میرا خیال ہے وہاں جہاد لازمی ہے اور ضروری ہے لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے میں اپنے اُن بھائیوں سے جو جہاد کے نام پر ایک دوسرے کو مار رہے ہیں آپ کی طرف سے اپیل کروں کہ وہ ازراہِ کرم پاکستان کے حال پر رحم فرمائیں اور بات چیت کے ذریعے جرگے میں بیٹھ کر یہ معاملات حل کریں۔ مہک صابر نے پوچھا آپ کی مسلم لیگ کو متحد کرنے کی کوشش کس حد تک بار آور ہوئی ہے اور آپ کی یہ کوششیں پاکستان کے استحکام میں کیا مدد کریں گی؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ آپ کا سوال مسلم لیگ کے حوالے سے ہے کہ پاکستان کو حاصل کرنے میں مسلم لیگ کو یہ شرف حاصل ہے لیکن آج مسلم لیگ متعدد حصوں میں بٹ چکی ہے ۔ اس بارے میں میں نے بھی کوششیں کی تھیں کہ مسلم لیگ ایک ہو جائے۔ اسی ہال میں میں نے میاںنواز شریف اور چودھری شجاعت حسین کو بلوایا تھا کہ وہ اپنا اپنا موقف اس سلسلے میں پیش کریں۔ پیر پگارا نے اپنا نمائندہ بھیجا تھا پیر پگارا نے مجھے پیغام بھجوایا کہ جہاں تک مسلم لیگ کا تعلق ہے کہ وہ اس ملک کی بانی جماعت ہے ‘مادر جماعت ہے اسے ایک ہونا چاہئے۔ اسے پانچ حصوں میں نہیں بٹنا چاہئے مجھے کوئی عہدہ نہیں چاہئے۔ اگر مسلم لیگ ایک ہو جائے تو فنکشنل مسلم لیگ اس کا حصہ ہو گی۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ان کوششوں کے باوجود ابھی تک مسلم لیگ ایک نہیں ہوئی بلکہ چوہدری برادران کی مسلم لیگ جوہے وہ بھی دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے۔ یہ ہماری قوم کی خصلت ہے کہ وہ اچھے کام کی طرف بڑی مشکل سے جاتی ہے۔ آپ دعا کریں پاکستان کی مادر جماعت ایک ہو جائے اور وہ پاکستان کی قیادت کرے کیونکہ جس نے ملک بنایا ہے وہی اسے ان عزائم کے مطابق چلا سکتا ہے ، ان اصولوں کے مطابق چلا سکتا ہے جو حضرت علامہ اقبالؒ نے دیئے تھے اور جو ویژن ہمیں حضرت قائداعظمؒ نے دیا۔ تحریم فاطمہ نے پوچھا کہ کیا ہمارے سیاستدانوں کو پتا ہے کہ ایک فرد کی ضروریات کیا ہیں اور یہ کہ سیاست میں کیسے حصہ لیا جاتا ہے؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ سیاست دان کو یہ جاننا چاہئے کہ ایک فرد کی کیا ضرورت ہے بالخصوص اس سیاست دان کو جو برسر اقتدار آجاتا ہے جس طرح آج کل زرداری صدر ہیں ، گیلانی وزیراعظم ہیں۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ ان دوحضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک عام آدمی کی ضروریات کیا ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے آپ کی امی اگر آپ کو بتائیں کہ آلو ستر روپے کلو ہو گئے ہیں ٹماٹر کا بھی یہی حال ہے ‘میں آپ کو کھانا کیسے دوں؟۔ آپ سمجھئے کہ یہ سیاست دانوں کا قصور ہے جو یہ اہتمام نہیں کر رہے کہ مہنگائی کو ختم کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت 62برس گزر جانے کے باوجود بڑے بڑے زمینداروں سرمایہ داروں کے ہاتھ میں چلی آرہی ہے اور وہ اپنے حلوے مانڈے سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں ‘بجائے عوام کی ضروریات یا ان کے ساتھ ہمدردری کرنے کے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان کے سارے اکائونٹس باہر ہیں اور سودوںمیں جو گورنمنٹ کرتی ہے ان میں یہ اپنا کمیشن بھی لیتے ہیں۔ ان کیلئے سیاست جو ہے اپنی پرسنٹیج کھانا یا رکھنا ہے۔ کئی سیاستدان مسٹر 10پرسنٹ کے نام سے اس ملک میں مشہور ہیں۔ جہاں تک دوسرے سوال کاتعلق ہے اگر آپ کی جیب میں پیسہ ہے تو سیاست میں حصہ لیجئے ورنہ آرام سے گھر بیٹھئے۔ حسین مجاہد نے پوچھا کہ ہمارے حکمران عیاشی میں پڑ گئے ہیں انہیں اس سے کس طرح روکا جا سکتا ہے؟ مجید نظامی نے کہا کہ آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ نے اپنے نام کے ساتھ مجاہد لکھاہوا ہے۔ خدا کرے کہ آپ بڑے ہو کر واقعی مجاہد بنیںلوگ یہ نہ کہیں یہ مجاہد جہاد کرنے والا ہے اور جہاد آج کل ہمارے نزدیک فساد بن چکا ہے۔، اللہ تعالیٰ آپ کوہمیشہ مجاہد رکھے۔ میرا خیال ہے کہ آپ ابھی ووٹر نہیں بنے لیکن آپ کے والدین اور بھائی بہن ضرور ووٹر ہوں گے آپ انہیں پوچھیے آپ ایسے لوگوں کو کیوں ووٹ دیتے ہیں جو اس قسم کے لوگوں کو چنتے ہیں۔ وزیر بناتے ہیں یا وزیر اعلیٰ بناتے ہیں یا وزیر اعظم بناتے ہیں یا صدر بناتے ہیں جو بعد میں عیاشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں بطور مسلمان اور پاکستانی، پاکستان کو ایک اسلامی، فلاحی، جمہوری مملکت بنانا چاہئے۔ تعلیم مفت ہونی چاہئے، کتابیں حکومت کی طرف سے ملنی چاہئیں۔ اس کیلئے عیاشی ناممکن ہے۔ محمد نسیم نے پوچھا پاکستان کے باقی اخبارات نوائے وقت کی طرح کام کیوں نہیں کر رہے؟جناب مجید نظامی نے کہا کہ دوسرے اخبارات کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ میرا خیال ہے آپ اتنے جواب کو کافی سمجھیں۔ مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں کسی اپنے ساتھی کے بارے میں کوئی ایسی بات کہوں جومجھے نہیں کہنی چاہئے۔ اجمل نے پوچھا کہ اگر آپ صدر ہوتے تو آپ کیا کرتے؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ میں صدر ہوتے ہوتے رہ گیا بلکہ میں صدر ہونا ہی نہیں چاہتا تھا۔ میرے پاس میاں نواز شریف ان کے والد محترم جو ابا جی کے نام سے مشہور تھے ان کے چھوٹے بھائی موجودہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف تشریف لائے۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ ہماری ٹیم میں صدر مملکت ہوں گے ۔ میں نے کہا نہیں جناب مجھے یہ پیشکش قبول نہیں ہے۔ میں جو کام کر رہا ہوں وہی مجھے زیب دیتا ہے۔ چونکہ میں صدر نہیں بننا چاہتا اس لئے یہ تصور بھی نہیں کرتا کہ میں صدرہوتا تو کیا کرتا۔ فواد نے پوچھا کہ میں بڑا ہوکر آپ جیسا بننا چاہتا ہوں اس کیلئے مجھے کیا کرنا چاہئے؟جناب مجید نظامی نے کہا کہ تعلیم حاصل کریں، جو بھی کام کریں محنت اور ایمانداری کے ساتھ کریں۔ اگر آپ نے میرے جیسا بننا ہے تو آپ کو سب سے پہلے جرنلسٹ بننا پڑے گا۔ اور اس کے لئے پوری محنت اور ایمانداری سے کام کرنا پڑے گا۔ اللہ آپ کو کسی اخبار کا ایڈیٹر بنا دے اور اس کے بعد کسی حکومت سے نہ ڈریں۔ خواہ آپ کے اشتہارات بند ہوں یا نیوز پرنٹ بند ہو یا کوئی حکمران دھمکانے کی کوشش کرے آپ اس کے منہ پر جواب دیں۔ آپ اسی طرح میری طرح بن سکتے ہیں اورکوئی طریقہ مجھے نظر نہیں آتا۔ حماد یونس نے پوچھا کہ مسلمان‘ مسلمان سے جنگ کیوں کر رہے ہیں؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ گھر میں بھی بہن بھائی کی لڑائی ہو جاتی ہے، بھائی بھائی کی لڑائی ہو جاتی ہے۔ آپ نے پڑھا ہوگا کہ جو بڑے ہیں وہ جائیداد پر اپنے بھائی‘ والد کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس لئے یہ ایک قدرتی امر ہے کہ مسلمان پیدائشی لڑاکا ہوتا ہے جب تک لڑ نہ لے اسے تسلی نہیں ہوتی۔ دعا کریں کہ یہ آپس میں نہ لڑیں۔ احسن سلمان نے پوچھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کی وجہ کیا ہے اور حکومت اس پر قابو کیوں نہیں پا سکتی؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ حکومت کو لوڈ شیڈنگ کی پرواہ ہی نہیں کیونکہ وہ نہ بجلی کا بل ادا کرتی ہے نہ ہی اس کے ہاں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ لوڈ شیڈنگ میرے اور آپ کے ہاں ہوتی ہے۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ اس پر کنٹرول کرے لیکن آپ ٹی وی پر دیکھتے ہوں گے لائن چل رہی ہے کہ ہمیں اتنے میگا واٹ کی ضرورت ہے ، اتنے میگا واٹ ہم تیار کر رہے ہیںیعنی اتنے میگا واٹ ہمارے پاس کم ہیں۔ اس لئے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور اس کا علاج وہ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کو 500 کے بجائے 1000 روپے کا بل بھیج دیتے ہیںتا کہ ان کا خسارہ پورا ہو سکے۔ احمد توثیق نے پوچھا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں کیا مشکلات ہیں، حکومت اس کو بنانے میں کیوں ناکام ہے؟جناب مجید نظامی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم کالا باغ ڈیم بنا لیتے تو لوڈ شیڈنگ ہوتی نہ پانی کی کمی ہوتی ۔ لیکن ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ چونکہ کالا باغ ڈیم پنجاب میں بنے گا اس لئے باقی تین صوبے اس کیلئے تیار نہیں ہیں کہ کالا باغ ڈیم بنے۔ ہم تو بار بار لکھتے ہیں کہ بھئی اس کا نام پاکستان ڈیم رکھ لیجئے اور پنجاب کا نہیں پاکستان کا ڈیم ہونا چاہئے۔ اس پر کنٹرول بھی پنجاب حکومت کے بجائے حکومت پاکستان کا ہونا چاہئے لیکن ازراہ کرم ازراہ خدا ضرور کالا باغ ڈیم بنائیے۔ کیونکہ یہ ہماری زراعت کیلئے ضروری ہے، بجلی کیلئے ضروری ہے، کاروبار کیلئے ضروری ہے۔ لیکن شاید اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنی عقل یا شعور نہیں دیا ۔ کالا باغ ڈیم بنانا پاکستان کے حکمرانوںکا فرض ہے۔ اور میں نہایت افسوس کے ساتھ کہنا چاہوںگا کہ اب پنجاب کے حکمرانوں نے بھی کالا باغ ڈیم کا نام لینا چھوڑ دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم باقی تین صوبوں میں غیر مقبول ہو جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کالا باغ ڈیم اشد ضروری ہے اس کے بغیر پاکستان بجلی، پانی اور کاروبارمیں بہت خسارے میں رہے گا۔ عبداللہ حسین نے پوچھا کہ پاکستان کے حکمرانوں کو اپنا وطن یاد کیوں نہیں ہے؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی لاٹری نکال دی ہے اور وہ حکمران تو بن گئے ہیں لیکن آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ پاکستان کی خدمت کریں اور پاکستان کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ان کا کام پاکستان کو ترقی دینا ہے ، پاکستان لوٹنا نہیں ہے۔ ارتضیٰ علی نے پوچھا کہ مسئلہ کشمیر کیسے حل ہو سکتا ہے؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ ہمارے حکمران یکے بعد دیگرے یہی سمجھتے ہیں کہ بھارت کو ہاتھ باندھ کر سلام کرنے سے مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ بھار ت کو جب تک ہم یہ دھمکی نہیں دیں گے کہ لالہ جی کشمیر کو چھوڑ دیجئے ورنہ ایٹمی میزائل آپ کی طرف آرہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہم سے بڑی ایٹمی قوت ہیں لیکن جہاں تک جہاد کا تعلق ہے وہ اس جذبے سے عاری ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر صرف جہاد سے لیا جا سکتا ہے اور جہاد میں ایٹمی قوت کا استعمال بھی شامل ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح تباہی آجائے گی۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ امریکہ نے جو اس وقت اور پہلے بھی سب سے بڑی قوت تھی انہوں نے صرف اور صرف جاپان میں ایٹم بم استعمال کیا لیکن کیا جاپان ختم ہو چکا ہے؟ میرا خیال ہے کہ جہاں تک ترقی کا تعلق ہے جاپان نے امریکہ سے بھی زیادہ ترقی کی ہے ۔ اس لئے ہمیں ڈرنا نہیں چاہئے اور بھارت کو یہ الٹی میٹم دینا چاہئے کہ جنگ کیلئے تیار ہو جائو یا کشمیر خالی کر دو۔ سعد مظہرنے پوچھاکہ آپ کے ذہن میں نظریاتی سمر سکول بنانے کا خیال کیسے آیا؟ جناب مجید نظامی نے کہا کہ میرے ساتھیوں نے یہاں مشورہ کر کے یہ کہا کہ ہم سمر سکول شروع کریں۔ میں نے تجویز کیا کہ اس سمر سکول کا نام نظریاتی سمر سکول ہونا چاہئے۔ تا کہ ان بچوں کو یہ بتایا جا سکے کہ ہم ہندوئوں سے کیسے الگ قوم ہیں ۔ دو قومی نظریہ کیا ہے، پاکستان کیوں بنا؟ کیوں تقسیم کیا، بنگلہ دیش کیوں معرض وجود میں آیا؟ اس لئے ہم نے نظریاتی سمر سکول کی شروعات کیں۔ میراخیال ہے کہ ہم اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہوئے ہیں کہ پاکستان کیا ہے، دو قومی نظریہ کیا ہے؟اور اگر خدانخواستہ پاکستان نہ بنتا تو آپ یہ جو اس طرح ایک گلستان میں پھولوں کی طرح بیٹھے ہیں آپ کی شاید یہ حالت نہ ہوتی ۔رافعہ نعیم نے پوچھا تمام غیر مسلم ممالک اسلام خاص طور پر پاکستان کے خلاف متحد ہیںتو تمام مسلمان متحد ہو کر کافروں کو جواب کیوں نہیں دیتے؟جناب مجید نظامی نے کہا کہ مسلمان ممالک 56 ہیں۔ اسلامی ممالک کی تنظیم انٹرنیشنل اسلامک آرگنائزیشن کو کبھی اللہ تعالیٰ نے توفیق نہیں دی کہ وہ کشمیر کے بارے میں بات کرے کہ کشمیر خالی کر دیں لیکن آپ نے دیکھا ہے کہ ایک شیطانی اتحاد ثلاثہ امریکہ ‘ بھارت اور اسرائیل خاص طور پر ہمارے خلاف ہے۔ ان کی نظر ہمارے کمبل پر ہے میں اپنے ایٹم بم کو کمبل کہتا ہوں کیونکہ پرانے زمانے میں چوروں کی سب سے پہلے نظر ایک شریف آدمی کے کمبل پر جاتی تھی۔ یہ کمبل میں کیسے چھینوں تاکہ رات کو اپنے آپ کو سردی سے بچا کر کیسے سوئوں گا۔ یہ اتحاد ثلاثہ واقعی پاکستان کے خلاف ہے اور یہ ہمیں ایٹمی قوت نہیں دیکھ سکتے۔ وہ بار بار یہ بیان دے رہے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفو ظ نہیں ہیں لیکن اللہ کے فضل سے ہمارے ایٹمی اثاثے بالکل محفوظ ہیں۔ ہم اس شیطانی ثلاثہ کا اپنے اتحاد سے جواب دے سکتے ہیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر جناب مجید نظامی نے پاکستان‘ قائداعظمؒ‘ علامہ اقبالؒ اور مادرِ ملتؒ زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ بعدازاں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کہا کہ نظریاتی سمر سکول کے طالب علموں کی خواہش پر جناب مجید نظامی کو دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قومی کردار اور خدمات کے باعث جناب مجید نظامی قومی اثاثہ ہیں جو پاکستان کے اساسی نظریہ کے تحفظ اور فروغ کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و تندرستی کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے۔ آمین! گذشتہ روز نظریاتی سمر سکول کی سرگرمیوں میں 7 اور 8 سال کی عمرکے بچوں نے حصہ لیا۔ بچوں نے کمپیوٹر پر نظریۂ پاکستان کے حوالے سے پوسٹر بنائے۔ پوسٹر سازی کے مقابلے میں محمد غضنفر ارشد‘ علی مجتبیٰ‘ انعم ندیم‘ خدیجہ ذوالفقار ‘ محمد شاہنواز‘ محمد عثمان‘ محمد عمیر اشفاق جبکہ پاکستانی پرچم بنانے کے مقابلے میں عثمان اشفاق اور محمد حسن زمان اورمضمون نویسی بعنوان ’’ہم پاکستان سے محبت کیوں کرتے ہیں؟‘‘ کے مقابلے میں احسن سلمان خان نے انعامات حاصل کئے۔ کراٹے کی کلاس میں ٹیچر محمد ندیم نے بچوں کو کراٹے کی مختلف ابتدائی تکنیکیں سمجھائیں۔ تقریری مقابلے میں یُسریٰ‘ زونیرہ اور ملائکہ کو انعامات دئیے گئے۔ گذشتہ روز کے بہترین طالبِ علم کا انعام محمد حسن مجاہد اور محمد راضین جبکہ مانیٹر آف دی ڈے کا انعام بشیر بانو کو دیا گیا۔ جناب مجید نظامی اور میاں عزیز الحق قریشی نے بچوں میں انعامات تقسیم کیے۔ نظریاتی سمر سکول کے پندرہ دنوں کے دوران طلبا وطالبات کی تیار کردہ اشیاء کی مس میمونہ نور کی نگرانی میں نمائش کی گئی۔ جناب مجید نظامی نے بچوں کی تیار کردہ اشیاء دیکھیں اور ان میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر طالبہ خدیجہ ذوالفقار نے ایک دستی تیار کردہ مونوگرام I Love Pakistan جناب مجید نظامی کو پیش کیا۔ تقریب کے آخر میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیف کوآرڈینیٹر عزیز الحق قریشی نے جناب مجید نظامی کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ تقریب کا اختتام پاکستان، قائداعظمؒ‘، علامہ اقبالؒ ‘مادرِ ملتؒ اور مجید نظامی زندہ باد کے نعروں سے ہوا۔