امریکی و اتحادی افواج فوری طور پر دیہات سے نکل جائیں: کرزئی


 کابل(اے پی اے )افغان صدر حامد کرزئی نے ایک بار پھر امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے امریکی حکام کی نااہلی کی وجہ سے طالبان نے 2001ء میں چھینے گئے علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا ،ملک میں تیزی سے پروان چڑھنے والی عدم تحفظ اور بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیچھے امریکی و اتحادی فوج کا غیر ذمہ دارانہ کردار شامل ہے۔ انہوں نے امریکی و اتحادی افوج سے فوری طور پر دیہاتوں سے نکل جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا2014ءتک فوجی مشن ختم اور تمام افواج افغانستان سے نکل جائیں گی ۔آئندہ تین برسوں کے لئے خارجہ پالیسی اور حکمت عملی کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر کرزئی نے یقین دہانی کرائی سکیورٹی ذمہ د اریاں افغان فورسز کے حوالے کرنے کا عمل جلد مکمل ہوگا انخلاءکے عمل میں زیادہ تیزی نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا معاہدے کے باوجود امریکی افواج نے قیدی افغان حکام کے حوالے نہیں کئے، انہوں نے امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا جب تک تمام قیدیوں کو افغان حکام کے حوالے نہیں کیا جاتا امریکہ کیساتھ سکیورٹی معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا ملک میں پ±رتشدد واقعات کی بڑی وجہ شدت پسند گروپ ہیں۔ عدم تحفظ کی موجودہ صورتحال میں امریکی و اتحادی افواج کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور وہ بدستور اس کی ذمہ دار ہیں۔ افغان صدر کا کہنا تھا معاہدے کے باوجود کئی افغان قیدی بدستور امریکی افواج کی تحویل میں ہیں جو اس معاہدے کی ک±ھلم ک±ھلا خلاف ورزی ہے ۔ صدر کرئی نے ایک بار پھر اپنے اس مطالبے کو دہرایا کہ تمام افغان قیدیوں کو افغان حکام کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ سب کے مفاد میں ہے ۔ دہشت گردی سانپ کی طرح ہے جو کسی کو بھی ڈس سکتا ہے۔ انتہاپسندی کے خلاف جنگ پاکستان اور افغانستان سمیت پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا امریکا افغانستان کا اہم اتحادی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ افغان دشمنوں کو امداد دینے والے ذرائع کے خلاف کارروائی کرے۔