فوجی سربراہ کی حیثیت سے آئی ایس آئی کا سیاسی سیل بند کرنے کی ہدایت کی:مشرف


دبئی (ثناءنیوز) سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ انہوں نے فوجی سربراہ کی حیثیت سے آئی ایس آئی کا سیاسی سیل ختم کرنے اور انٹیلی جنس ایجنسیز کو سیاست سے دور رہنے کا کہا تھا۔دبئی میں اےک انٹروےو مےں انہوں نے کہا کہ انہوں نے آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اس بارے میں تحریری حکم تو نہیں دیا تھا لیکن باضابطہ طور پر کہا تھا کہ ان کے ادارے کی سیاست میں مداخلت ختم ہو جانی چاہیے۔یہ کوئی باضابطہ حکم نہیں تھا لیکن ہم نے یہ سوچا تھا کہ سیاسی میدان میں آئی ایس آئی والے بالکل مداخلت نہ کریں۔جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ یہی وجہ تھی کہ ان کے2008ئکے انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت یا دھاندلی نہیں کی گئی اور نہ ہی ایسی کوئی شکایت سامنے آئی۔اصغر خان کیس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک خلفشار ہے جس میں ریاست کے ستون آپس میں لڑرہے ہیں اور ان میں کشیدگی ہے جو پاکستان کے لیے نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں قید ہوکر ہم اپنے لیے خود ہی مصیبتیں کھڑی کر رہے ہیں کیونکہ پندرہ سال پرانے کیسز کو کھولنا کسی کے حق میں نہیں۔ اگر پیچھے ہی جانا ہے تو پھر مشرقی پاکستان کی علیحدگی، لیاقت علی خان کے قتل کے بارے میں بھی بات کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ فوج کے افراد کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ میری نظر میں پاکستان کو کمزور کرنے کی ایک سازش ہورہی ہے کیونکہ فوج پاکستان میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور جسے اگر کمزور کیا جائے گا تو ملک کمزور ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ خواہ مخواہ ہی فوج کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔