سینٹ : کراچی کی صورتحال‘ وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر مسلم لیگ (ن) متحدہ‘ اے این پی کا واک آﺅٹ


اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) سینٹ میں ملک میںامن و امان بالخصوص کراچی کی صورتحال اور وزیر داخلہ رحمن ملک کی عدم موجودگی کےخلاف مسلم لیگ (ن)‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ ایم کیو ایم اور بلوچ قومیت پرست جماعتوں نے اجلاس سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔ بدھ کو سینٹ کا اجلاس چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری کی صدارت میں ہوا نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر زاہد خان نے کہاکہ ہمیں وزیر قانون نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ایوان میں آ کر ارکان کو کراچی کی صورتحال پر اعتماد میں لیں گے تین ماہ سے سینٹ میں امن وامان کی صورتحال کی تحریک زیر بحث ہے مگر اس کا کیا فائدہ ہوا وزیر داخلہ رحمن ملک ایوان میں نہیں آتے جب بھی آئیں تو وہ کہتے ہیں کوئی تیسرا ہاتھ ملوث ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومت کراچی کی صورتحال پر سنجیدہ نہیں ہے۔ میر حاصل خان بزنجو نے کہاکہ ہم تین ماہ سے اسی تحریک پر ہونے والی بحث میں پھنسے ہوئے ہیں مگر حکومت کی طرف سے اعتماد میں نہیں لیا جاتا لہٰذا اپوزیشن سمیت ہم ایوان سے واک آﺅٹ کرتے ہیں جس کے بعد مسلم لیگ نواز اور بلوچ قوم پرست جماعتیں اجلاس سے واک آﺅٹ کر گئیں ایم کیو ایم کی سنیٹر نسرین جلیل نے کہاکہ ہم بھی کراچی کے معاملے پر ایوان سے واک آﺅٹ کرتے ہیں۔ زاہد خان نے کہا کہ کراچی میں لوگ مر رہے ہیں اور کسی کو پرواہ نہیں۔ جس کے فوراً بعد چیئرمین سینٹ سنیٹر سید نیئر بخاری نے اجلاس آج جمعرات 15 نومبر کو شام چار بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔ بدھ کو نماز مغرب کے وقفہ کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی اور ایم حمزہ کی جانب سے کراچی اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ سمیت ملک میں امن و امان کی عمومی صورتحال پر مزید بحث کی جانی تھی مگر چیئرمین سینٹ نے کہا کہ وزیر داخلہ نہیں ہیں لہٰذا اس آئٹم کو م¶خر کر دیا۔ جس پر زاہد خان نے کہا کہ کراچی اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے مگر وزیر داخلہ اس ایوان کو خاطر میں نہیں لا رہے۔ نسرین جلیل نے کہا کہ اتنے اہم معاملے پر بحث ہونا تھی اور اس کیلئے وزیر داخلہ کو یہاں ہونا چاہئے تھا مگر وہ یہاں نہیں ہے۔ واک آ¶ٹ کے بعد قائد ایوان سنیٹر جہانگیر بدر نے اس ضمن میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ایوان میں آنے کیلئے رابطہ کیا مگر وہ غیر حاضر تھے اسلئے انہوں نے شام کی دیگر مصروفیات رکھ لیں۔ میں کل وزیراعظم سے رابطہ کروں گا۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ ایوان میں ضرور آئیں گے۔ وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی چنگیز جمالی نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران چار ٹیکسٹائل انڈسٹریز بنگلہ دیش منتقل ہوئی ہیں۔ بجلی کی کمی کی وجہ سے بھی بعض صنعتی یونٹس بند ہوئے ہیں۔ سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ مختلف ممالک میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 8 ہزار 698 ہے، وقفہ سوالات کے دوران وزارت خارجہ کی طرف سے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ افغانستان میں 315، چین میں 264، ہانگ کانگ میں 150، بھارت 403، یونان میں 319، اٹلی میں 134، کویت میں 314، متحدہ عرب امارات میں ایک ہزار 334، امریکہ میں 99، برطانیہ میں ایک ہزار 416 اور اومان میں 347 پاکستانی قیدی ہیں۔ 4 سال کے دوران بھارت نے 387 اور پاکستان نے 1540 بھارتی ماہی گیر رہا کئے۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے امور خارجہ ملک عماد خان نے کہا کہ حکومت پاکستان عالمی برادری،سول سوسائٹی ڈرون حملوں کو غےر قانونی اور ناجائز سمجھتی ہے فاٹا مےں ڈرون حملے قومی سلامتی اور وقار کی بدترےن خلاف ورزی ہےں اور ڈرون حملے بالکل ناجائز ہےں، انہوں نے بتاےا کہ بھارتی وزےر خارجہ اےس اےم کرشنا کے حالےہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستان اور بھارت کے مابےن وےزہ کی پالےسےوں کو نرم کرنے کے حوالے سے وزارت داخلہ اور بھارتی حکومت کے مابےن معاہدات پر دستخط ہوچکے ہےں، انڈونےشےا کے دارالحکومت جکارتہ مےں پاکستانی سفارتخانے کی عمارت کو فروخت کرنے کے معاملے مےں مروجہ طرےقہ کار نہےں اپناےا گےا، نےب کی ٹےم اس معاملے کی تحقےقات کےلئے جلد انڈونےشےا جائے گی، آئرلےنڈ اور لندن مےں دو افسران ملےحہ مخدوم اور ثالث کےانی کو سابق وزےراعظم ےوسف رضا گےلانی کی ہداےت پر مقرر کےا گےا تھا، ےہ افسران اپنے عہدوں کےلئے مطلوبہ اہلےت کے حامل نہےں تھے، تاہم ملک کا چےف اےگزےکٹو ان کی تقرری کا بڑا اختےار ہے، وزےر مملکت کے اس بےان پر اپوزےشن کے ارکان نے احتجاج کےا، مسلم لےگ (ن) کے ارکان اےم حمزہ‘ بےگم نجمہ حمےد، پروےز رشید نے اےوان مےں کھڑے ہو کر وزےر خارجہ سے کہا کہ بےوروکرےسی کو کسی بھی اعلیٰ شخصےت کے غےر قانونی احکامات کو تسلےم نہےں کرنا چاہئے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع و دفاعی پیداوار کے چیئرمین سنیٹر مشاہد حسین سید نے ڈیفنس اپ ڈیٹ I نومبر 2012ءکی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے بند کئے جائیں‘ طالبان کے ساتھ مذاکرات پاکستان کے ذریعے ہونے چاہئیں اور ان میں ہماری شمولیت ہونی چاہئے۔ چیئرمین سینٹ سید نیئر بخاری نے ہدایت کی کہ مشیر پٹرولیم (آج) جمعرات کو سی این جی سٹیشنوں کی انتظامیہ کی ہڑتال سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیں۔ چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ وزیر کو ایوان میں موجود ہونا چاہئے تھا۔