بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں سے وسائل تباہ، زراعت بے حال ہوئی: بی بی سی


کوئٹہ (بی بی سی) بلوچستان میں جاری شورش سے صوبے کے وسائل کو نقصان پہنچانے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی۔ بلوچستان میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ تو گزشتہ ایک دہائی سے جاری ہے لیکن اس میں زیادہ تیزی نواب اکبر بگٹی کی وفات کے بعد آئی۔ اگر کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کو ہی لیا جائے تو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ نو برس کے دوران اس کی تنصیبات پر دو سو پانچ حملے ہوئے۔ دو سو بیس کے وی ٹرانسمیشن لائنوں کے ایک سو تریسٹھ جبکہ ایک سو بتیس کے وی لائنوں کے ایک سو باون ٹاور اڑائے گئے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی موت سے پہلے اس قسم کی کارروائیاں کمپنی کو بلیک میل کرنے کے لئے اور نوکریاں حاصل کرنے کے لیے کی جاتیں تھیں اور حکومت کچھ حد تک ایسا کرنے والوں کی بات مانتی بھی تھی لیکن آج کل جو لوگ یہ کارروائیاں کر رہے ہیں وہ علیحدگی کی بات کرتے ہیں۔ بجلی کی تنصیات اور ٹرانسمیشن لائنوں پر حملوں سے اب تک کیسکو کو چالیس کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن ان کارروائیوں سے صوبے کے صارفین کو بجلی کی فراہمی تو منقطع ہوتی ہی ہے۔ اس سے سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے پر پڑتا ہے زراعت سے وابستہ لاکھوں خاندان معاشی طور پر متاثر ہوتے ہیں جس کے نقصان کا تو کوئی واضح تخیمنہ بھی موجود نہیں۔