مشرف مشورے دینے کی بجائے واپس آ کر اپنے اعمال کا حساب دیں

لاہور (احمد جمال نظامی سے) سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک غیرملکی چینل کو پیش کی گئی تحریری تجاویز میں م¶قف اختیار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات کو حل کرنے کے لئے عسکریت پسند تنظیموں پر پابندی عائد کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سکولوں میں مذہبی سلیبس پر نظرثانی کی جانی چاہئے۔ مشرف کو یقین ہے کہ اگر یہ دونوں کام ہو جائیں تو پاکستان میں انتہاپسندی ختم ہو جائے گی۔ جنرل پرویزمشرف یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ پاکستان کی اکثروبیشتر جہادی تنظیموں پر پابندی لگانے کا کام انہوں نے امریکہ کی ہدایت پر اپنے دور اقتدار میں ہی مکمل کر دیا تھا اور فی الحقیقت یہ ان تنظیموں پر پابندی لگانے کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ انتہا پسندی کی شکل میں اپنے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ مشرف نے پاکستان پر سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ اس اسلامی نظریاتی مملکت میں ترقی پسندی کے نام پر مادرپدر آزادی اور بے راہ روی کی تعلیمات کو فروغ دیا۔ مشرف نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر فوج کشی کر کے اسلامی تنظیموں کو مملکت کے اندر انتہاپسندانہ کارروائیوں پر مجبور کیا۔ اب وہ ایک مغربی چینل کے ذریعے مشورہ دے رہے ہیں کہ پاکستان کے سکولوں میں مذہبی سلیبس پر نظرثانی ہونی چاہئے۔ یہودونصاریٰ کی صدیوں سے یہ کوشش ہے کہ مسلمان اپنی حقیقی اساس سے ہٹ جائیں اور نہ تیرا خدا کوئی اور ہے، نہ میرا خدا کوئی اور ہے، کی تینوں مذاہب کے مشترکہ عقیدے پر ہم آہنگ ہو جائیں، کسی مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ کلمہ توحید کے ساتھ کلمہ رسالت پر اپنا یقین مکمل نہیں کر لیتا۔ رسول اکرم کی شان میں گستاخانہ خاکے بنانے اور ان کی شخصی خوبیاں ابھار کر ان کے پیغمبر آخرالزماں ہونے پر بے یقینی پھیلانے والے یہودونصاریٰ کا ایجنڈا مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کو کمزور کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ یہود ونصاریٰ نے توریت اور بائبل میں من مانی تحریف کر دی ہے اور اب وہ نعوذ باللہ قرآن پاک کی آیات کے الفاظ و معنی تبدیل کرنے کی ناپاک جسارتوں میں مگن ہیں۔ قرآن پاک میں جہاد کا کثرت سے تذکرہ موجود ہے اور جنرل پرویزمشرف کی جدید ترقی پسندانہ تعلیمات میں جہاد کو عصر حاضر میں انسانیت کے خلاف ظلم قرار دینے کا فلسفہ متعارف کرایا گیا ہے۔ جنرل پرویزمشرف نے اپنے 9 سال کے غاصبانہ اقتدار میں پاکستان کا اسلامی و نظریاتی تشخص تباہ کرنے کے علاوہ اس ملک کو اسلامی ممالک کے خلاف برسرپیکار یہودونصاریٰ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا کر جو نقصان پہنچایا ہے اس نقصان سے مملکت خداداد پاکستان ان دنوں اس حد تک دوچار ہے کہ ہمارے ملک کے سکیورٹی کے اداروںمیں بھی پاسبان وطن ہونے کی امنگ پہلے سی باقی نہیں رہی۔ جنرل پرویزمشرف اگر محب وطن ہیں تو مغربی چینلز اور مغربی میڈیا کو پاکستان کی مذہبی تنظیموں اور پاکستان کے سکولوں کالجوں کے سلیبس میں شامل اسلامی تعلیمات پر نظرثانی کے مشورے دینے کی بجائے ملک میں واپس آ کر اپنی سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کو محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث قرار دیا جا چکا ہے۔ بلوچ رہنما اکبر بگٹی کے قتل کا مقدمہ بھی ان کے خلاف عدالتوں میں زیرسماعت ہے۔ ان مقدمات میں انہیں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ اس ملک میں ان کے جانشینوں نے انہیں 21 توپوں کی سلامی دے کر اقتدار کے ایوانوں سے رخصت کیا تھا۔ انہیں اس سلامی کی لاج رکھتے ہوئے انٹرپول یا کسی اور طریقے سے گرفتار ہو کر پاکستان واپس آنے کی بجائے ملک کے سابق صدر اور سابق چیف آف آرمی سٹاف کے شایان شان واپس وطن آ کر اپنے اعمال کا سامنا کرنا چاہیے۔ جہاں تک پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ سے نکالنے کی بات ہے تو جب تک ہمارے حکمرانوں اور جرنیلوں کے پاس بااثر امریکیوں کی آمدورفت ختم نہیں ہو گی جب تک ہم اس امر کا ادراک نہیں کر لیں گے کہ اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف ہم پاکستان کی جنگ نہیں لڑ رہے۔ دراصل پاکستان میں وزارتوں، سفارتوں اور اقتدار کے ایوانوں تک میں سب اچھا نہیں ہے۔ پاکستان کی سلامتی اور بقا کا تقاضا یہ ہے کہ غیرملکی افواج کو پاکستان کے جرنیلوں سے ون ٹو ون اور براہ راست ملاقاتوں کو روک دیا جائے اور ایوان صدر خود کو امریکہ کی بالادستی کے اثرات سے آزاد کرائے۔ وزارت خارجہ کی پالیسیاں سیاست دان مرتب کریں اگر اقتدار کے ایوانوں کی طرف سے دوٹوک اندازمیں یہ کہہ دیا جائے کہ طالبان اور القاعدہ سے پاکستان کی کوئی لڑائی نہیں ہے اور یہ لوگ امریکہ یا کسی اور کے خلاف عزائم رکھتے ہیں تو پاکستان کی سرزمین کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر کے پاکستان کے لئے مشکلات پیدا نہ کریں اور یہ بھی کہہ دیا جائے کہ وہ اب امریکہ کے اتحادی نہیں ہیں تو اس سے پاکستان میں فوری طور پر 80 فیصد انتہا پسندانہ کارروائیاں ایک ماہ کے اندر اندر ختم ہو جائیں گی۔ آزمائش شرط ہے!
مشرف مشورے