جی ایچ کیو حملہ‘ کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل کر لی گئی: بی بی سی

اسلام آباد (بی بی سی ڈاٹ کام + آن لائن) جی ایچ کیو پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث گیارہ افراد کے خلاف راولپنڈی میں قائم ایک فوجی عدالت میں کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ فوجی عدالت کے قوانین کے تحت دفاعی تنصیب پر حملے اور اس کی جاسوسی کرنے کے الزام کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا موت ہے۔ پاک فوج کے ایک بریگیڈیئر کی سربراہی میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی یہ کارروائی راولپنڈی میں ایک خفیہ مقام پر پانچ ماہ تک جاری رہی۔ اس دوران ملزموں کو دفاع کے لئے وکیل کرنے کا حق دیا گیا لیکن وکلا کے بقول صفائی کے گواہ عدالت میں پیش ہونے سے یا تو کتراتے رہے یا پیشی سے پہلے ہی ”لاپتہ“ ہوتے رہے۔ جن افراد پر کورٹ مارشل کے تحت مقدمہ چلایا گیا ان میں سے عقیل اور ان کے ایک اور ساتھی عمران پاکستانی فوج کی میڈیکل کور سے ریٹائر ہوئے ہیں‘ جن دیگر پانچ افراد کو اس مقدمے کا سامنا ہے ان میں خلیق الرحمن‘ عثمان عکا‘ واجد محمود‘ محمد عدنان اور طاہر شفیق شامل ہیں۔ یہ تمام سویلین عقیل کے دوست سمجھے جاتے ہیں اور فوجی استغاثہ کا کہنا ہے یہ افراد جی ایچ کیو پر حملے کے منصوبے سے آگاہ تھے اور عقیل کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔ ملزموں کے وکلا کے پینل کے رکن انعام الرحمن ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا وہ یا ملزمان کے اہل خانہ اس مقدمے کا فیصلہ آ جانے تک اس کی کارروائی پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم انہوں نے مقدمے کے آغاز پر کہا تھا سویلین افراد کا فوجی عدالت کے ذریعے کورٹ مارشل آئین کے خلاف ہے۔
کورٹ مارشل