آزاد کشمیر کا 44 ارب 54 کروڑ 90 لاکھ روپے کا بجٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش

مظفرآباد (نمائندہ خصوصی+جی این آئی + ریڈیو نیوز + وقت نیوز) آزاد جموں و کشمیر کا مالی سال 2011-12ءکے لئے 44 ارب 54 کروڑ 90 لاکھ روپے تخمینے کا بجٹ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔ جس سے جاریہ اخراجات کے لئے 36 ارب 26 کروڑ‘ ترقیاتی اخراجات کے لئے 8 ارب 28 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ
میں مجموعی طور پر 34 فیصلد اضافہ کیا گیا جبکہ ترقیاتی اخراجات کے لئے وزارت امور کشمیر سے اضافی طور پر اڑھائی ارب روپے بھی ملیں گے۔ بجٹ میں مختلف مدوں میں تقریباً 39 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے جبکہ 5 ارب روپے کا خسارہ وفاقی حکومت پورا کرے گی۔ دریں اثناءآزاد کشمیر کابینہ نے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ گذشتہ روز قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ عبدالرشید عباسی نے بجٹ تقریر میں کہا کہ ریاستی وسائل سے آمدن 13,645.00 ملین روپے‘ منگلہ ڈیم رائلٹی سے 720 ملین روپے‘ آزاد جموں و کشمیر کونسل سے 6,900.00 ملین روپے‘ وفاقی ٹیکسوں سے حصہ 9,940.00 ملین روپے ہو گا۔ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لئے 10 ارب‘ گلگت بلتستان کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 2 ارب 49 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے مقرر کردہ اہداف بتاتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن (مواصلات) کے لئے 3310 ملین‘ ہائیڈل کے شعبہ میں 2011-12ءمیں جاری منصوبوں کے لئے 550 ملین روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ 2011-12ءمیں 11.17 میگاواٹ بجلی کے سات منصوبے مکمل کئے جائیں گے جن سے سالانہ آمدن 25 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ دریں اثناءبجٹ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے یکم جولائی سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ ایم ایل اے فنڈ 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر بجٹ