بھارتی ایٹمی پلانٹ میں حادثے کو چھپانے کی کوششیں‘ میڈیا نے بھانڈا پھوڑ دیا

کراچی (خصوصی رپورٹ) بھارت کے ایک آن لائن جریدے ”منگلورین“ نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست کرناٹک کے خستہ حال گائیگا ایٹمی پاور پلانٹ میں ہفتہ کی شب یونٹ نمبر 2 میں شارٹ سرکٹ کے نتیجہ میں زبردست دھماکہ ہوا تھا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی اسی وجہ سے 220 میگاواٹ کے اس پلانٹ کے باقی تمام یونٹ بند کر دئیے گئے تھے جبکہ بھارتی حکام اور ایٹمی پلانٹ کی انتظامیہ اس حادثہ کو چھپانے کی کوشش کرتے رہے جس کا مقصد عوامی ردعمل سے بچنا ہے۔ گائیگا پلانٹ کے ڈائریکٹر جے پی گپتا کا کہنا تھا کہ پلانٹ میں خطرے والی کوئی بات نہیں۔ کنٹرول روم کی جانب سے آتشزدگی کا الارم ضرور بجا تھا جس سے ابتدائی طور پر سراسیمگی پھیل گئی تھی لیکن یہ واقعہ فائر الارم میں خرابی کی وجہ سے پیش آیا۔ بھارتی جریدے کے مطابق گزشتہ 30 سالوں کے دوران اس پاور پلانٹ میں چار مختلف حادثات ہو چکے ہیں اور پاور پلانٹ کے اطراف میں رہائش پذیر خصوصاً کناڈا ضلع کے لوگ اس پلانٹ کی بندش کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حال ہی میں جاپانی ایٹمی پلانٹ میں تابکاری پھیلنے کے بعد سے بھارتی شہریوں نے کرناٹک کے اس پلانٹ کی صورتحال پر بھی اپنی تفتیش کا اظہار کیا تھا جبکہ بھارت کے ایٹمی ماہرین پرافل پدوائی‘ کے ایل والدیہ اور سدھارام چندرن پہلے ہی اعتراف کر چکے ہیں کہ 30 سال پرانے اس پلانٹ میں کسی بھی قسم کے حادثات اور تباہی کے امکانات کو یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی ایٹمی پلانٹ