ایچ ای سی ہر حال میں تحلیل کر کے امور نئے ادارے کو سونپے جائیں گے: رضا ربانی

اسلام آباد (آن لائن) اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد کے لئے قائم پارلیمانی کمشن کے سربراہ رضا ربانی نے واضح کیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمشن کو ہر حال میں تحلیل کر کے بیشتر امور نئے ادارے سٹینڈرڈ فار ہائر ایجوکیشن کو سونپ دیئے جائیں گے‘ بعض عناصر صوبائی خودمختاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں وقت آنے پر ان کے نام بے نقاب کریں گے‘ نیا قانون ایچ ای سی کے آرڈیننس کی جگہ لے گا‘ پارلیمانی کمشن کو ٹریپ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی‘ یونیورسٹیز کیلئے فنڈنگ براہ راست صوبوں کو ملے گی‘ ایچ ای سی کے پوسٹ آفس کا کردار ختم کریں گے‘ یہ تاثر غلط ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمشن کو ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کی تصدیق کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ پارلیمانی کمشن کے ارکان سینیٹر اسحاق ڈار‘ نوید قمر اور عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد خان کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پارلیمانی کمشن کو جو مینڈیٹ دیا ہے اسے 30 جون تک ہر صورت مکمل کیا جائے گا‘ اٹھارہویں ترمیم کے تحت طے شدہ وزارتیں اور محکموں کی صوبوں کو منتقلی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایچ ای سی کے معاملے پر بلا وجہ غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ پارلیمانی کمشن نے چیئرمین ایچ ای سی سمیت بارہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کے ساتھ بات کی تھی اور انہیں آگاہ کیا تھا کہ جب ایچ ای سی کے قانون میں ترامیم کی جائیں گی تو ایچ ای سی حکام سے مشاورت کے بعد ہی نیا قانون دوبارہ مرتب کیا جائے گا لیکن افسوس یقین دہانی کے باوجود منفی سیاست کی جا رہی ہے۔ غلط بیانی کر کے طلبا اور یونیورسٹی کے حکام کو مس گائیڈ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ ایچ ای سی کے قانون میں ترامیم کرنے اور صوبوں کو منتقل کرنے سے نہ تو طلبا کے سکالر شپس متاثر ہوں گے نہ ہی یونیورسٹیز کے اساتذہ کی تنخواہیں رکیں گی۔ وزارت خزانہ نے ایچ ای سی کی کوئی گرانٹ نہیں روکی‘ اس پر بھی ایچ ای سی نے غلط بیانی کی۔ تعلیم کیلئے مختص پیسے کو کسی اور پر خرچ نہیں ہونے دیں گے۔ دوسری جانب سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ ایچ ای سی کے معاملے پر غلط فہمی ہوئی‘ تعلیم کا شعبہ کنکرنٹ لسٹ میں شامل تھا جو صوبوں کو منتقل ہونا تھا۔
رضا ربانی