پنجاب حکومت واضح کرے قصور میں مظاہرین پر گولی کیوں چلائی: انسانی حقوق کمشن

لاہور (لیڈی رپورٹر) قصور میں ایک سات سالہ بچی کا بہیمانہ ریپ اور قتل، بعدازاں پولیس تحقیقات میں سست روی اور بچی کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد جیسی صورت حال اقتدار پر براجمان لوگوں کے لیے افسوس کا مقام ہونا چاہیے۔ پاکستان کمشن برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک بیان میں کہا ’’واقعہ زینب جیسے لرزہ خیز سانحات کے بعد متعلقہ آفیسرز کو معطل کر دینے یا عدالت عالیہ کی طرف سے ازخود نوٹس لے لینے سے عوامی جذبات پر تو عارضی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر یہ حکمت عملی ملک میں بچوں کو جنسی زیادتی کی وبا سے نجات نہیں دلا سکتی۔ پنجاب حکومت کو یہ واضح کرنا ہو گا کہ دو روز قبل مظاہرین پر گولیاں کیسے اور کیوں چلائی گئیں۔ حکومت کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس سے پہلے قصور میں جنسی زیادتی کے جو واقعات پیش آئے ان سے متاثرہ بچوں کی کیا دادرسی کی گئی اور ان گھناؤنی برائیوں کے مستقل خاتمے کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے گئے تھے؟ اٹھارہویں ترمیم کے بعد، چائلڈ پروٹیکشن پالیسی تشکیل دینا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں روزانہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 11 واقعات پیش آتے ہیں اور زیادہ تر متاثرین کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان افسوسناک اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ برائی ہمارے معاشرے میں سرائیت کر چکی ہے اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اِس پر قابو پانے کے لیے فوری ، سخت اور پائیدار اقدامات کریں۔ 2016 میں جنسی زیادتی کے 4139 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 43 فیصد واقعات میں ملوث مجرم متاثرہ بچہ / بچی کے واقف کار تھے جبکہ 16 فیصد کیسز میں زیادتی کرنے والے خاندان کے لوگ تھے۔ 2015ء میں ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کے مطابق قصور میں ہونے والے سانحہ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بہت سے کیسز میڈیا پر آنے کے بعد رپورٹ ہوئے۔