جعلی ڈگریاں عدلیہ میں جاری مقدمات سے زیادہ خطرناک ? چند روز تک پتہ چل جائے گا

لاہور (سلمان غنی) جعلی ڈگریوں کا معاملہ موجودہ سیاسی بندوبست کے مستقبل کےلئے خطرناک ہوتا جا رہا ہے اس صورتحال سے نجات کےلئے اب تک ہونے والی مشاورت کارگر ثابت ہو رہی ہے اور نہ ہی سیاسی قیادت سے ہونے والے رابطوں کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایوان صدر کو مطلع کیا جا چکا ہے کہ کم از کم ایک تہائی ارکان کی ڈگریاں جعلی ہےں جس نے موجودہ سیاسی بندوبست کے بڑے کھلاڑیوں مےں تشویش پیدا کر دی ہے کہ کہیں جعلی ڈگریاں اور ان کے خلاف آنے والا ردعمل پورے سیاسی نظام کو ہی نہ لے بیٹھے۔ ایوان صدر اور موجودہ سیاسی بندوبست کے دیگر کھلاڑی جعلی ڈگریوں کے مسئلہ سے نمٹنے کےلئے سرجوڑے بیٹھے ہےں۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق ایوان صدر کو اپنی کسی حکمت عملی کی کامیابی کا خاطرہ خواہ یقین اس لئے نہیں کہ جعلی ڈگریوں کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے اس ضمن مےں الیکشن کمشن کو دی جانے والی ہدایات اور اشاروں کا بھی خاطر خوا نتیجہ نہیں نکلا دوسری طرف ہائیر ایجوکیشن کمشن نے بھی اس معاملے کو سست رفتار کرنے کےلئے کوئی راستہ نہ ہونے کا اظہار کیا ہے ظاہر ہے کہ ڈگریاں ہائیر ایجوکیشن کی طرف سے یونیورسٹیوں مےں پڑتال کےلئے بھیجنے کے بعد اسے زیادہ دیر تک مخفی نہیں رکھا جا سکتا چنانچہ گورنرز جو جامعات کے چانسلر بھی ہوتے ہےں ان کے ذریعے جامعات پر موثر ثابت نہیں ہوگا۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق اس ضمن مےں وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کی ڈگری کا مسئلہ بھی آئندہ دنوں مےں اہمیت اختیار کر جائے گا۔ وفاقی وزیر قانون کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف مونٹی سیلو سے 1997ءمےں ڈگری لی تھی جبکہ یہ یونیورسٹی عملاً ختم ہو چکی ہے۔ وفاقی وزیر قانون اس ضمن مےں صرف اتنا کہتے ہےں کہ یہ یونیورسٹی 2002ءمےں بند ہوئی تھی تاہم اس یونیورسٹی کی حیثیت پر بہت سے سوالات ہےں۔ باخبر ذرائع کے مطابق بعض ارکان کی ڈگریاں بیرون ملک کی ایسی جامعات سے حاصل کی گئیں جو عملاً انٹرنیٹ پر موجود ہےں اور اس رابطہ سے وہ ڈگریاں دیتی ہےں جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ماہرین اس صورتحال مےں یہ سوال اٹھاتے ہےں کہ اگر ایک تہائی ارکان کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوگئیں تو پھر انتخابات انتہائی ہنگامی اور قابل عمل حل ہوگا۔ ظاہر ہے اس صورتحال مےں نئے انتخابات ہی واحد راستہ ہوں گے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال مےں مسلم لیگ ن نئے انتخابات کا راستہ ہموار کرے گی چنانچہ پیپلز پارٹی کے بعض ذمہ داروں نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو اس لئے آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیا ہے دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے چند روز مےں جعلی ڈگریوں کا مسئلہ سیاسی نظام کےلئے عدلیہ مےں جاری مقدمات سے زیادہ خطرناک تو نہیں بن جاتا، جعلی ڈگریوں کی چیکنگ کے عمل مےں یہ دلچسپ رجحان دیکھنے مےں آ رہا ہے کہ بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر چیکنگ اتھارٹیز پر اثرانداز ہونے کی کوشش کارگر نہیں ہو رہے ہےں اور اتھارٹیز حکومتی ذمہ داران اور ارکان کو یہ کہتی نظر آرہی ہےں کہ آپ کے ساتھ تو کچھ ہوتا ہے یا نہیں لیکن ہم بچ نہیں پائیں گے کیونکہ ہم اس عمل کے حوالے سے کہیں اور بھی جوابدہ ہےںں۔ نہایت ذمہ دار حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگریوں کے حوالے سے بعض نام ایسے بھی ہےں کہ لوگ ان کا نام آنے پر منہ مےں انگلیاں دبا لیں گے کیونکہ مذکورہ عمل شروع ہونے پر وہ اس حوالے سے بلندوبانگ دعوے کر رہے اور بیانات دیتے نظر آچکے تھے۔